خطے میں کشیدگی: پیٹرولیم قیمتوں پر نظر رکھنے کے لیے وزیرِ خزانہ کی صدارت میں کمیٹی تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے پیشِ نظر، وزیرِاعظم پاکستان کی ہدایت پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور توانائی کی صورتحال پر گہری نظر رکھنے کے لیے وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
اس کمیٹی میں اہم وفاقی وزارتوں، ریگولیٹری اداروں اور توانائی کے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے تاکہ ممکنہ بحران سے بچاؤ، قیمتوں کے اثرات کا تجزیہ، اور ہنگامی حکمت عملی کی تیاری ممکن بنائی جا سکے۔ کمیٹی کو 4 اہم نکات پر کام سونپا گیا ہے:
عالمی سطح پر قیمتوں اور رسد کی صورتحال پر نگرانی،
قیمتوں کے اثرات کا زرِمبادلہ پر جائزہ،
ممکنہ سپلائی بحران سے بچاؤ کی حکمت عملی،
طویل کشیدگی کی صورت میں مالیاتی اثرات کا تجزیہ۔
مزید پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیوں کیا گیا؟
پہلا اجلاس آج وزیرِ خزانہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں عالمی و مقامی منڈی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی نے اطمینان ظاہر کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر فی الوقت کافی ہیں، تاہم مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ ایک ورکنگ گروپ روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گا جبکہ مکمل کمیٹی ہفتہ وار اجلاس میں وزیرِاعظم کو سفارشات پیش کرے گی۔ پیٹرولیم ڈویژن کو کمیٹی کا سیکریٹریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے توانائی کے تحفظ، مارکیٹ میں استحکام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول کمیٹی پیٹرولیم مصنوعات ڈیزل وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پیٹرولیم مصنوعات ڈیزل وزیراعظم پاکستان وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب پیٹرولیم مصنوعات کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔