data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر)ریڈ لائن بی آر ٹی کی تعمیر میں تاخیر، منصوبے کی خامیوں، دکانداروں کے نقصانات اور متبادل راستوں کی بدترین صورتحال پر لائحہ عمل کی تیاری کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے قائم کردہ ایکشن کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت نائب امیر جماعت اسلامی کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ نے کی۔اجلاس میں کنوینر ایکشن کمیٹی و سیکرٹری جنرل پبلک ایڈ کمیٹی نجیب ایوبی، امیر ضلع شرقی نعیم اختر، ڈپٹی سیکرٹری جماعت اسلامی کراچی ابن الحسن ہاشمی، بلدیاتی چیئرمین ظفر خان، نعمان الیاس، ڈاکٹر ریحان احمد، سلیم عمر سمیت اسٹیرنگ کمیٹی اور ایکشن کمیٹی کے اراکین شریک ہوئے۔اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مہم کو تیز کیا جائے گاکہ آج4 مقامات سبزی منڈی، بیت المکرم مسجد، صفورا چوک اور موسمیات پر کیمپس لگائے جائیں گے،کیمپ آفس بیت المکرم مسجد کے قریب قائم کیا جائے گا جہاں سے ذمے داران عوامی آگہی مہم کا آغاز کریں گے جبکہ کل یکم نومبربروز ہفتہ 4:30 بجے شام بیت المکرم مسجد تا حسن اسکوائر تک ایک’’ احتجاجی مارچ ‘‘کیا جائے گا،مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سندھ حکومت کی نااہلی نے ریڈ لائن منصوبے کو عوام کے لیے عذاب بنا دیا ہے۔ کراچی کے شہریوں کو درپیش مشکلات سے حکومت کو کوئی سروکار نہیں، کیونکہ کراچی ان کے ووٹ کا شہر نہیں۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کراچی کو اپنا شہر سمجھتی ہے اور اس کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ صف اول میں رہی ہے۔جیسے ماضی میں یونیورسٹی روڈ تعمیر کرو مہم کامیابی سے چلائی گئی تھی، ویسے ہی اب ریڈ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے بھی عوامی دباؤ پیدا کیا جائے گا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ متاثرہ کاروباری و رہائشی حضرات کے نقصانات کی تفصیل کے لیے سوالنامے تقسیم کیے جائیں گے تاکہ ان کے ازالے کے لیے سیاسی اور قانونی جدوجہد کی جا سکے۔عوامی آگہی کے لیے ہینڈبلز بھی تقسیم کیے جائیں گے جبکہ تاجر نمائندوں اور متاثرین کو احتجاجی مارچ میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔امیر ضلع شرقی نعیم اختر نے اجلاس میں ذمے داران اور کمیٹی ممبران کو بی آر ٹی، ریڈ لائن تعمیر کرو مہم کے حوالے سے خصوصی ہدایات دیں۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کراچی اجلاس میں ریڈ لائن کیا جائے کے لیے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی