وفاقی بجٹ پر اہم سیاسی موڑ؛ پی ٹی آئی نے پیپلز پارٹی کو بڑی پیشکش کردی
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی بجٹ کے حوالے سے اہم سیاسی موڑ آگیا۔ پی ٹی آئی کی جانب سے پیپلز پارٹی کو بڑی پیش کش کردی گئی۔
پاکستان تحریک انصاف نے مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ کی منظوری روکنے کی حکمت عملی کے تحت پیپلز پارٹی کو بجٹ ووٹنگ میں حصہ نہ لینے کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔
اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجا پرویز اشرف سے اہم ملاقات کی، جس میں اپوزیشن کی ممکنہ مشترکہ حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران اسد قیصر نے پیپلز پارٹی کے حالیہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی واقعی بجٹ بائیکاٹ کے حوالے سے سنجیدہ ہے تو پی ٹی آئی اس اقدام میں اس کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بجٹ جیسے اہم قومی معاملے پر اپوزیشن جماعتوں کا متحد ہونا حکومت پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
اس موقع پر راجا پرویز اشرف نے اسد قیصر کو یقین دہانی کرائی کہ وہ پی ٹی آئی کی اس پیشکش کو پارٹی قیادت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سامنے رکھیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بلاول بھٹو آج پارلیمنٹ آ رہے ہیں اور ان سے اس معاملے پر مشاورت کی جائے گی۔
یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی ہے جب وفاقی بجٹ پر ایوان میں بحث جاری ہے اور مختلف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بجٹ پر حتمی مؤقف سامنے آنا باقی ہے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی پیشکش نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی کی جانب سے وفاقی بجٹ پی ٹی آئی
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔
اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔
ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔
وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔
We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.
Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔