تل ابیب خالی کردیں، ایرانی پاسداران انقلاب کی اسرائیلی شہریوں کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیلی شہریوں کو مخاطب کرتے ہوئے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ وہ جلد از جلد دارالحکومت تل ابیب خالی کر دیں کیونکہ آئندہ چند گھنٹوں میں وہاں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائےگا۔
یہ وارننگ ایسے وقت پر دی گئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف جارحانہ کارروائیاں سامنے آ رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں اس سے قبل کہ دیر ہو جائے ایران کو کشیدگی کم کرنے پر بات کرنی چاہیے، ٹرمپ
ایرانی فوجی ادارے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہم اسرائیلی شہریوں کو خبردار کرتے ہیں کہ تل ابیب میں موجود رہنا خطرے سے خالی نہیں، وہاں ہمارے میزائل اور ڈرون حملوں کا اگلا ہدف فوجی تنصیبات ہوں گی، اور شہریوں کو چاہیے کہ اپنی سلامتی کے لیے فوری انخلا کریں۔
یہ بیان بین الاقوامی میڈیا اور ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر نشر کیا جا رہا ہے، جس سے ایران کی سنجیدگی اور ممکنہ حملے کی شدت کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔
ایران کی یہ دھمکی آمیز وارننگ اسرائیلی فوج کے حالیہ اقدام کے ردعمل میں سامنے آئی ہے، جس میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز نے ایرانی شہریوں سے کہا تھا کہ وہ تہران کے ایک مخصوص علاقے کو خالی کر دیں کیونکہ وہاں غیر قانونی ایرانی عسکری سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ قدم اسرائیل کی طرف سے ایران پر براہِ راست حملے کے خدشے کو بڑھا رہا تھا، جس پر ایران نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل کے قلب تل ابیب کو ممکنہ نشانہ قرار دیا ہے۔
اس وارننگ کے بعد تل ابیب میں خوف و ہراس کی فضا دیکھی جا رہی ہے۔ شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے پناہ گاہوں کا رخ کیا ہے، جبکہ فوج اور شہری دفاع کی فورسز کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ عارضی طور پر شہر چھوڑنے لگے ہیں، اور اسکول، دفاتر و دیگر اداروں میں ایمرجنسی اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں ایرانی پارلیمنٹ میں ’پاکستان تشکر تشکر‘ کے نعروں کی گونج
ایرانی اور اسرائیلی بیانات کے اس تبادلے پر اقوامِ متحدہ، یورپی یونین اور دیگر عالمی طاقتوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کئی سفارتی حلقے دونوں ممالک پر تحمل اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر زور دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایران اسرائیل کشیدگی ایرانی پاسداران انقلاب تل ابیب وارننگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایران اسرائیل کشیدگی ایرانی پاسداران انقلاب تل ابیب وارننگ وی نیوز شہریوں کو تل ابیب کیا ہے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ