کراچی کی حب کینال میں نہانے پر پابندی لگادی گئی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: حب کینال میں نہانے اور تیراکی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔
ترجمان کے مطابق دفعہ 144 کے تحت 17 جون سے 16 جولائی 2025 تک عائد اس پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے سی ای او واٹر کارپوریشن احمد علی صدیقی کی درخواست پر اہم قدم اٹھاتے ہوئے حب کینال میں ڈوبنے کے بڑھتے واقعات کے باعث پابندی لگائی گئی، واٹر سپلائی کے تحفظ اور قیمتی جانوں کے بچاؤ کے لیے دفعہ 144 نافذ کی ہے۔
ترجمان کے مطابق حب کینال میں غیر قانونی سرگرمیاں انفرااسٹرکچر کی سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے،17 جون تا 16 جولائی 2025 تک حب کینال میں نہانے، تیراکی اور عوامی اجتماع پر مکمل پابندی ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق دفعہ 188 کے تحت خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔ حب کینال کے اطراف غیر مجاز سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔
جبکہ تمام متعلقہ ایس ایچ اوز کو دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حب کینال میں
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔