Express News:
2026-07-24@08:15:33 GMT

دیسی گھی کھا کے جی

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے دلاور فگارکی، منفرد لب و لہجہ کے شاعر تھے اور ان جیسا شاعر مشکل ہی سے پیدا ہوگا۔ اس وقت ہمیں ان کا ایک زبردست شعر یاد آرہا ہے جو انھوں نے اس زمانہ میں کہا تھا جب برصغیر کی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ پنجاب میل اس دورکی سب سے تیز میل ٹرین ہوا کرتی تھی۔ شعر یوں تھا۔

کھا کے دیسی گھی اگر غالبؔ جیئے تو کیا جیے

ہم کو دیکھو جی رہے ہیں سونگھ کر سرسوں کا تیل

اب تو نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ لوگوں کو سرسوں کا خالص تیل بھی میسر نہیں ہے۔ بیچارے بناسپتی گھی کھا کر جی رہے ہیں۔ برسبیلِ تذکرہ عرض ہے کہ جب بناسپتی گھی آیا تھا تو اس کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ بناسپتی گھی کھانے والوں کی چوتھی نسل اندھی ہوگی۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ یہ بات صد فیصد درست تھی۔

اس کا اندازہ اس بات سے باآسانی اور بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ آج کے بچوں کو نظر کے چشمے لگے ہوئے ہیں۔ ان بیچاروں کو دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا ہے اور ترس آتا ہے کہ یہ کم نظری کی بیماری میں مبتلا ہیں جس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جا بجا چشمے کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں اور چشمہ فروشوں کا کاروبار زوروں پر ہے اور ان کے وارے نیارے ہو رہے ہیں۔

چشمہ فروشی کا بزنس دوسرے کاروباروں کے مقابلے میں بے حد منافع بخش ہے۔ ہماری صحت کا دار و مدار ہماری روزمرہ کی خوراک پر ہے۔ جیولن تھرو کے پرانے عالمی ریکارڈ کو توڑ کر نیا ریکارڈ قائم کرنے والے عظیم پاکستانی ارشد ندیم اپنے مدمقابل کو شکستِ فاش دے کر عالمی شہرت کے مالک بن گئے۔ ان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اپنی خوراک میں خالص دیسی گھی استعمال کرتے ہیں۔

خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھیں دیسی گھی میسر ہے۔ اسی لیے تو بچوں کے مشہور شاعر اسماعیل میرٹھی نے اپنی خوبصورت نظم میں جس کا عنوان’’ ہماری گائے‘‘ ہے یہ کہا ہے کہ:

دودھ دہی اور مَٹّھا مسکا

دے نہ خدا تو کس کے بس کا

پاکستان کے عوام صرف آم، قوالی اور قورمے کی خوشبو تک ہی محدود نہیں بلکہ صبح سویرے نانی اماں کے کچن سے اٹھتی ہوئی دیسی گھی کی مہک کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ دیسی گھی کوئی عام چکنائی نہیں بلکہ یہ ہر گھرکی لذت، یادوں اور جذبات سے جڑا ہوا ایک خزانہ ہے۔

ہمارے ہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، بجلی آنکھ مچولی کھیلتی رہتی ہے، انٹرنیٹ کا بھی کوئی بھروسہ نہیں لیکن جو چیز نسل در نسل چلی آ رہی ہے وہ ہے دیسی گھی۔ یہ وہ واحد چیز ہے جو نانی اماں سے لے کر ان کی نیوٹرشنسٹ نواسی تک سب کو ہر دلعزیز ہے بس استعمال کا طریقہ جدا جدا ہے۔ نانی اماں گھی چمچے سے ڈالتی تھیں اور نواسی ’’ اسپرے گھی‘‘ استعمال کرتی ہے، تاہم گھی کا چراغ آج بھی جل رہا ہے۔

گھی کا رشتہ پاکستانی دسترخوان سے ایسا ہی ہے جیسے کرکٹ کا موسم بہار سے۔ اگر صبح پراٹھا گھی کے بغیر ہو تو وہ ناشتہ نہیں بلکہ خالی پلیٹ کی بے بسی لگتی ہے۔ دیسی گھروں میں گھی صرف خوراک نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہوتا ہے:

’’محبت سے پکایا ہے، جی بھر کے کھاؤ۔‘‘

 دیسی گھی وہ نعمتِ غیر مترقبہ ہے جس کے بغیر نہ پراٹھا مکمل ہوتا ہے اور نہ کھچڑی میں روح اترتی ہے۔ یہ وہ جادو ہے جو نہ صرف کھانے کو کھانا بناتا ہے بلکہ رشتوں میں مٹھاس بھی گھولتا ہے۔

دیسی گھی کی قیمت اب تقریباً اتنی ہو چکی ہے جتنی ایک نئے فون کی۔ پہلے لوگ گھی چمچے سے نکالتے تھے، اب قطرہ قطرہ گن کر استعمال کرتے ہیں جیسے آبِ زم زم ہو۔

مہنگائی کے اس دور میں گھی کی قیمت دیکھ کر دل کرتا ہے کہ اسے بینک لاکر میں رکھوا دیا جائے۔ ایسے حالات میں اگر کسی کے گھر میں گھی کی بڑی بوتل نظر آجائے تو لوگ رشک سے اسے کہتے ہیں۔

’’ بھائی صاحب کی تو پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں‘‘

اور دل میں جلتے ہیں جیسے بغیر گھی کے پراٹھا۔

لیکن پھر بھی جب کبھی گھر میں کوئی خوشی کا موقع ہو یا مہمان کی آمد ہو تو پہلا سوال یہی ہوتا ہے۔

’’ کیا گھی والے پراٹھے رکھے ہیں یا بسکُٹ سے کام چلانا پڑے گا؟‘‘

ایک وقت وہ تھا جب نانی اماں گھر میں بیٹھ کر گھی بنایا کرتی تھیں۔ اب بھلا نئی نسل کہاں اتنی محنت کرے؟ کبھی نہیں ! وہ تو ایپ سے’’ آرگینک دیسی گھی‘‘ آرڈرکرتے ہیں جو 3000 روپے فی کلو ہوتا ہے اور ذائقہ ایسا جیسے خالی پلاسٹک چبا رہے ہوں۔

 نوجوان نسل کے لیے توگھی ایک ایسا دشمن بن چکا ہے جو ان کے ’’سکس پیک‘‘ کا راستہ روکتا ہے۔ صبح سویرے جم جانے والے نوجوان جب کسی دعوت میں دیسی گھی والی پتیلی دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں۔

’’ یار! میں تو صرف بوائلڈ چکن پر ہوں۔‘‘

ایسے وقت میں دل کرتا ہے کہ ان کے منہ میں پراٹھا رکھ کر کہوں:

’’ یہ ہے وہ ذائقہ جو تم نے پروٹین بارزکے بدلے قربان کردیا ہے‘‘

نوجوان نسل کا المیہ: ’’ گھی؟ اوہ نو،کیلوریز!‘‘

آج کا نوجوان دو چیزوں سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے۔ تعلق ختم ہونے سے اور گھی سے حاصل ہونے والی کیلوریز سے۔ اب جم جانے والے نوجوان کہتے ہیں۔ ’’ گھی؟ میں تو ایووکاڈو آئل میں ابلے انڈے کھاتا ہوں۔‘‘ ’’ ارے بیٹا ، اگر تم نے کبھی ناشتہ میں گھی والا پراٹھا ساتھ میں دہی اور آخر میں لسی نہیں پی تو تم کیا جیئے؟‘‘ یہ نوجوان بھول گئے ہیں کہ دیسی گھی وہ چیز ہے جس پر ہماری پوری قوم کی بھوک، محبت اور مزاج کا انحصار ہے۔

کچھ نوجوانوں کا حال یہ ہے کہ ایک طرف جم جا کر کیلوریز جلاتے ہیں اور دوسری طرف گھر آ کر چپکے سے گھی والا چپاتی لپک لیتے ہیں۔ پوچھو تو جواب ملتا ہے۔ ’’ امی نے زبردستی کھلا دیا ورنہ میں تو صرف اُبلی ہوئی بروکلی پر ہوں!‘‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ’’ گھی کھا کے مکرنا ہماری قومی روایت بن چکی ہے۔‘‘ شہر کے نوجوان چاہے لاکھ کیلوریزگنیں لیکن دیہات میں آج بھی ناشتہ وہی تندورکی روٹی، مکھن کی تہہ اور اوپر سے ایک چمچ دیسی گھی۔ وہاں گھی صحت کا دشمن نہیں بلکہ نظامِ ہاضمہ کا محافظ سمجھا جاتا ہے۔ گاؤں والے تو یہاں تک کہتے ہیں’’ گھی کھاؤ، بلڈ پریشر نیچے لاؤ!۔‘‘ اب سائنس کیا کہتی ہے وہ بعد کی بات ہے۔

دیہی علاقوں میں توگھی کا راج ابھی تک قائم و دائم ہے۔ وہاں نہ کیلوریز کا تصور ہے اور نہ دل کی بیماری کا ڈر۔ وہاں تو صبح گھی والا پراٹھا، دوپہرکو گھی والی دال اور رات کو گھی والا حلوہ کھا کر ہی زندگی گزرتی ہے، لہٰذا گھی کا اصل محافظ اب بھی وہی دیہاتی چچا ہیں جو کہتے ہیں ’’ گھی کھاؤ، صحت پاؤ، ڈاکٹر سے دور رہو۔‘‘

اگرچہ دیسی گھی کے مخالفین بڑھتے چلے جا رہے ہیں لیکن سچ یہی ہے کہ یہ وہ چکنائی ہے جو نسلوں کو جوڑتی ہے۔ مستقبل میں ہو سکتا ہے بازار میں ’’ زیرو فیٹ دیسی گھی، کولیسٹرول کنٹرول گھی یا اسمارٹ گھی جیسی بوتلیں آجائیں لیکن جو خوشبو چولہے سے اُٹھتی ہے وہ تب بھی وہی ہوگی۔ دیسی گھی کا مستقبل اسی وقت ختم ہوگا جب پاکستانیوں کا ذائقہ مرجائے گا اور وہ دن ابھی بہت دور ہے۔ جیسے ’’ بٹر بورڈز‘‘ کا فیشن آیا ہے کل کو ’’ گھی بورڈ‘‘ کا فیشن بھی آئے گا۔ لڑکیاں بوٹیاں گھی میں ڈبونے کی وڈیوز ڈالیں گی اورکیپشن ہوگا ’’ گھی سے زندگی۔‘‘

گھی پاکستان کا وہ ثقافتی ستون ہے جو نہ صرف کھانے بلکہ بول چال میں بھی جڑیں رکھتا ہے۔ یہ محض چکنائی نہیں بلکہ ایک ذائقہ، تعلق اور تہذیب ہے تو یاد رکھیں’’ اگر زندگی میں لذت چاہیے تو پراٹھا گھی سے اور بات نمک سے ہونی چاہیے۔‘‘

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کہتے ہیں دیسی گھی رہے ہیں میں گھی ہوتا ہے ہے کہ ا ا ہے کہ میں تو گھی کا گھی کی ہے اور

پڑھیں:

ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ کی سبزی منڈی میں صبح سے ہی خریداروں کا رش تھا، مگر ایک چیز ہر چہرے پر مشترک نظر آئی۔۔۔ مایوسی۔

ایک خاتون دکاندار سے ٹماٹر کا ریٹ پوچھتی ہیں۔ جواب ملتا ہے: 500 روپے کلو۔ وہ چند لمحے خاموش رہتی ہیں، پھر بغیر ٹماٹر لیے آگے بڑھ جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹماٹروں کی فی کلو قیمت 600 روپے سے بھی تجاوز کر گئی، سبب کیا ہے؟

یہ منظر اب کراچی کے کئی بازاروں میں معمول بنتا جا رہا ہے۔

چند ہفتے پہلے امید بندھی تھی کہ ایران سے ٹماٹروں کی آمد شروع ہوگی تو شاید قیمتیں نیچے آ جائیں گی، مگر یہ امید بھی مہنگائی کی نذر ہو گئی۔

آج بھی شہر کے مختلف علاقوں میں ایرانی اور کوئٹہ سے آنے والے ٹماٹر 450 سے 500 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ کم معیار کے ٹماٹر بھی 400 روپے سے کم دستیاب نہیں۔

’اب سالن کے لیے ٹماٹر نہیں، دہی اور املی ڈال رہے ہیں‘

کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ میں شہریوں نے بتایا کہ بہت سے گھروں کے لیے ٹماٹر اب روزمرہ کی سبزی نہیں بلکہ ایک سوچ سمجھ کر خریدی جانے والا کچن آئٹم بن چکا ہے۔

ایک شہری نے قدرے مایوس لہجے میں استفسار کیا کہ 500 روپے کلو ٹماٹر غریب آدمی کیسے خریدے۔ ’بیشترلوگ اب سالن میں ٹماٹر کے بجائے دہی یا املی استعمال کر رہے ہیں کیونکہ گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

ایک اور بزرگ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مزدور کی دیہاڑی 8 یا 9 سو روپے ہو تو وہ ایک کلو ٹماٹر خریدے یا بچوں کے لیے آٹا، سبزی اور دودھ لے۔

بازار میں موجود کئی خریداروں نے یہی شکایت دہرائی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایران سے ٹماٹر آرہے ہیں، لیکن قیمت میں وہ کمی نہیں آئی جس کی امید تھی۔

قیمتیں آخر کم کیوں نہیں ہو رہیں؟

سبزی فروشوں اور تاجروں کے مطابق مسئلہ صرف درآمدات کا نہیں، بلکہ سپلائی چین کا بھی ہے۔

سبزی فروشوں کے مطابق ایران سے روزانہ تقریباً 10 کنٹینرز ٹماٹر کراچی پہنچ رہے ہیں لیکن یہ مقدار شہر کی طلب کے مقابلے میں ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 30 فیصد مال خراب ہو جاتا ہے، جس سے مارکیٹ میں دستیاب مقدار مزید کم ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب کوئٹہ سے سپلائی محدود ہے، سندھ کی نئی فصل ابھی مکمل طور پر مارکیٹ میں نہیں آئی، جبکہ حالیہ بارشوں اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے بھی قیمتوں کو اوپر رکھا ہوا ہے۔

50 روپے مالیت کے 2 ٹماٹر

چند ماہ پہلے یہی ٹماٹر 80 سے 100 روپے فی کلو میں دستیاب تھے، بعد ازاں قیمت 120، پھر 300، اور اب 500 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔

بازار میں اب صورتِ حال یہ ہے کہ 50 سے 60 روپے میں صرف 2 یا 3 چھوٹے ٹماٹر دستیاب ہیں۔

یہ اضافہ صرف ایک سبزی کی قیمت میں نہیں، بلکہ عام آدمی کی قوتِ خرید میں مسلسل کمی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔

عوام کو وجوہات نہیں، ریلیف چاہیے

ایمپریس مارکیٹ میں آئے شہریوں کا مؤقف تقریباً یکساں تھا، ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے درآمدات ہو رہی ہیں تو اس کا فائدہ بھی صارف تک پہنچنا چاہیے۔

عوام سپلائی، بارشوں یا خراب مال کی وجوہات ضرور سمجھتے ہیں، لیکن ان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ گھر کا بجٹ کیسے چلے؟

مزید پڑھیں: قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، ’مرغی میں ٹماٹر ڈالیں یا ٹماٹر میں مرغی‘

ایک شہری نے جاتے جاتے صرف اتنا کہا کہ ٹماٹر پر ہی موقف نہیں، اب تو سبزی، دال اور گوشت، سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے۔

شاید یہی ایک تبصرہ رائے عامہ کا اہم خلاصہ بھی تھا کیونکہ جب روزمرہ کھانے کا بنیادی جزو بھی ایک خاندان کے کچن بجٹ پر بوجھ بننا شروع ہوجائے تو مسئلہ ہر اس خاندان کا بن جاتا ہے جو مہنگائی کے ساتھ روز ایک نئی جنگ لڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آٹا ایران ایمپریس مارکیٹ بارش ٹماٹر دسترخوان دودھ ریلیف سبزی سندھ طلب قوت خرید کچن بجٹ کراچی کنٹینرز مہنگائی نقل وحمل

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف