Daily Ausaf:
2026-07-24@09:47:57 GMT

یہ بھی میری ہی جنگ ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایران کےساتھ اختلاف و اتفاق کا معاملہ الگ، پالیسیوں سے اختلاف، پاکستان میں مداخلت پر اعتراض، پراکسیز پر تنقید یکسر مختلف، لیکن جب اسرائیل جیسا بدمعاش حملہ آور ہو تو پھر یہ بھی میری ہی جنگ ہے۔ جب نیتن یاہو للکارے یا ٹرمپ آنکھیں دکھائے تو میں ایران ہوں۔ کل بھارت اس غلط فہمی میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا کہ یہاں کا فتنہ انتشار ان کا راستہ ہموار کرے گا، لیکن وہ فتنہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکا، بھارت اور اس کے ایجنٹ دونوں ہی رسوا ہوئے۔ آج بھارت کا سرپرست، بلکہ’’ ماں جایا‘‘ بھی یہی سوچ کر ایران پر پل پڑا کہ امت منقسم ہے، لیکن شہباز شریف سے محمد بن سلمان تک اور احمد الشریع جولانی سے اردوان تک، سب نے ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح سے بنیان مرصوص ہونے کا ثبوت دیا ہے، یہ منظر یہود و ہنود اور ان کی ’’باوا آدم‘‘ کی موت ہے۔
یہ جنگ یہاں رکے گی نہیں، پھیلے گی۔ وقتی طور پر اگر امن کا وقفہ آ بھی گیا تو بہت مختصر ہوگا۔ یہ اللہ کے ماننے والوں اور اللہ کے باغیوں کے درمیان وہ آخری معرکہ ہو سکتا ہے جس کی بشارتیں اللہ کے نبی، آقا محمد ﷺ نے دے رکھی ہیں، لیکن اطمینان یہ ہے کہ اسرائیل کی اوچھی حرکت نے امہ کے تن مردہ میں جان ڈال دی ہے۔ وہ جو کل تک سود و زیاں کا حساب جوڑتے، امریکہ کی خوشنودی کی خاطر یہودیوں کو قبول کرنے کے راستے تلاش کر رہے تھے، انہیں بھی سمجھ آتی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا دنیا بدل رہی ہے، واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہو چکی ہے، وقت کے ساتھ یہ تقسیم بڑھے گی، تصادم کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن موڑ کی جانب بڑھتی ہے یا امن کے کسی مختصر وقفے کی طرف رخ کرتی ہے، اس میں امت کے لیے صرف مواقع ہی نہیں، سبق بھی ہیں۔اول یہ کہ یہود و ہنوداوران کےاتحادی کسی قیمت پرکسی مسلمان ملک کےحامی و ہمدرد نہیں ہو سکتے ، بھارت نےچاہ بہارسمیت ایران کے ساتھ بےشمار معاہدوں اورقربتوں کےباوجود دو ٹوک الفاظ میں اسرائیل کا ساتھ دےکر ثبوت مہیا کر دیا کہ آستین کے ان سانپوں کو جتنا بھی دودھ پلا لیں، یہ ڈسنے سے باز نہیں آئیں گے۔ لازم ہے کہ مسلم ممالک اپنے فیصلوں اورمعاہدوں میں ایران اور بھارت کے تعلقات اور انجام کو نہ بھولیں، خصوصاً عرب دوست، جو دل و جان سےبھارت پر فریفتہ ہیں اورمال ودولت لٹاتےچلےجارہے ہیں۔ ان کے لیے سبق ہے کہ خدانخواستہ وقت پڑا جو کہ اب زیادہ دور نہیں رہا ، تو یہی بھارت ان کا سب سے بڑا دشمن ہوگا، ان کے معاشروں میں پھیلے یہ بھارتی شہری دشمن کے سب سے بڑے جاسوس ثابت ہوں گے۔دوسرا سبق یہ کہ اختلافات جتنے بھی ہوجائیں، نفرتیں جتنی بھی بڑھ جائیں، یقینا ایران اور احمد الشریع سے زیادہ نہیں ہو سکتیں، لیکن جب وقت پڑتا ہے تو اپنے ہی کام آتے ہیں، زخموں کو بھول کر، نفرتوں کو نظرانداز کر کے۔ لازم ہے کہ مستقبل کی خارجہ پالیسیوں میں دھیان رکھاجائے کہ باہمی اختلاف اس حد تک نہ چلا جائے کہ کل اکٹھے بیٹھتے ہوئے نظریں جھکانا پڑیں۔
سب سے بڑھ کر، سب سے اہم یہ کہ دولت کے انبار ضرور لگائیں، عیاشیاں بھی کریں، لیکن نہ بھولیں کہ ’’ہےجرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘۔ دنیا طاقت کی ہے، کمزور کو کچل دیا جاتا ہے، اور کمزور اگر مسلمان ملک ہو تو پھر غلامی اس کا مقدر ہے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان، ترکی اور کسی حد تک ایران اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں، باقی امت کہاں کھڑی ہے؟ یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ قطر،بحرین،سعودی عرب اور عراق میں امریکی افواج کے اڈےحقیقت بتانےکو کافی ہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی اندھی حمایت کے بعد سوال یہ ہے کہ ان ممالک کا اگر اسرائیل سے کوئی تنازع ہوا جو کہ زیادہ دور نہیں ،تو کیا یہی امریکی اڈے ان کے دفاع کو نہیں روندیں گے؟
وقت کے قاضی کا یہ اٹل فیصلہ اب مان لینا چاہیے کہ آپس کی لڑائیوں میں یقینا امریکی آپ کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ دونوں جانب گرنے والی لاشیں ان کے دشمن مسلمانوں کی ہوں گی، بصورت دیگر نہیں۔وقت آگیا ہےکہ دولت کے انبار رکھنے والے سوچیں، سمجھیں اور اس جنگ کا سب سے قیمتی سبق ازبر کر لیں کہ دفاع اولین ضرورت ہے، مانگے تانگے کا نہیں، اپنا بااختیار دفاع ،جیسا پاکستان کاہے یا کم ازکم ایران کا ۔ لازم ہےکہ سبق سیکھا جائے اور او آئی سی نام کے مردہ گھوڑے کو چابک رسید کر کے اٹھایا جائے۔ چڑیوں کے اس چنبےکو عقابوں کا جھنڈ بنایا جائے۔ عالمِ اسلام نیٹو کی طرز پر مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرے، بنیان مرصوص کی بنارکھی جائے۔ پاکستان اور ترکی کی ٹیکنالوجی،عربوں کاپیسہ، ایرانیوں اور افغانیوں کا جذبہ،اورافریقی مسلمانوں کی افرادی قوت مل کر،متحد ہو کر اٹھیں گے، تو دنیامیں کوئی تمہاری ہوا کو بھی نہ دیکھ سکےگا۔ روس اور چین قدرتی اتحادی کے طور پر دستیاب ہوں گے، تو دنیا کی طاقت اور دنیا کے فیصلے امریکہ کے محتاج نہیں رہیں گے۔
اسرائیل اور ایران کی اس جنگ نے کتاب ہدائت کا وہ بھولا ہوا سبق بھی پھر سے یاد کروادیا ہےکہ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ (انفال ۔73)یعنی یہ کافر آپس میں خواہ جتنی بھی دشمنی رکھتےہوں تمھارے خلاف سب کےسب ایک دوسرے کےمدد گار اور حمایتی ہیں۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حملہ ایران پر ہوا ہے ، جنگ اسرائیل سے ہے ، لیکن یہود وہنود کا گٹھ جوڑ پاکستان کو بھی لپیٹنے کےچکرمیں ہے ، حکومت ہی نہیں ، میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی بیدار رہنے کی ضرورت ہے ، ہر اڑتی چڑیا کے پیچھے بھاگنا اور بظاہر خوشنما الفاظ کو بلا تصدیق آگے پھیلانا تباہ کن بھی ہو سکتا ہے ، سب سے بڑی مثال ایک روز قبل سوشل میڈیا پر آنے اور چھاجانے والی یہ خبر ہے ، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’’ایران نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔‘‘ اے آئی سے تیارکردہ یہ جعلی ویڈیو ایک ایسے اکائونٹ سے جاری کی گئی جو بھارتی راء آپریٹ کر رہی ہے ۔ اس جعلسازی کا واحد مقصد پاکستان کو ایک ایسے تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش ہے جہاں اس نے واضح تزویراتی احتیاط برت رکھی ہے۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جنگ ٹھنڈے دماغ اور چوکس حواس کا کھیل ہے،جذباتیت اور نعرے بازی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ دوسرے یہ کہ قومی سطح پر کھلنڈرے،لاابالی اورنعرے بازی کے مزاج سےنکل کر ذمہ دار ریاست کے ذمہ دار شہری بننےکی ضرورت ہے، جو لوگ دفاع وطن پر مامور ہیں ، یا جو ارباب بست وکشاد خارجہ امور کی گتھیاں سلجھانے کی ذمہ داریوں پر فائز ہیں ، وہ کسی بھی دوسرے سے زیادہ ملکی مفاد کو سمجھتے بھی ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کا ہنر بھی جانتے ہیں بلکہ اپنی مہارتوں کا لوہا کئی بات منوا چکے ہیں ۔
دشمنوں کی سازش واضح ہے، وہ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ مسلکوں، قوموں، رنگوں اور زبانوں کے نام پر اندرون ملک اور عالمی سطح پر بھی ، لیکن ہمیں متحد ہونا ہے جیسے بدر میں تھے، جیسے یرموک میں تھے، جیسے ایوبی کے لشکر میں تھے۔ اب کوئی حجازی، کوئی عراقی، کوئی پاکستانی یا کوئی افغانی نہیں، اب صرف ایک پہچان مسلمان۔ امت کے جھنڈے تلے متحد ہوں گے تو فتح یاب ہوں گے کامران ٹھہریں گے ، ورنہ دشمن کے قدموں تلے روندے جائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ۔ کہتے ہیں جنگوں میں طعنے نہیں دئے جاتے ، لیکن ایک بات صرف ایک جملہ ایرانی بھائیوں سے بھی کہنا ضروری ہے کہ یہ جنگ ،ختم ہوجائے گی ، یہ مشکل گھڑی گزرجائے گی تو اک بار سوچنا ضرور ، آگے بڑھنے اور نئے دوست بنانے سے پہلے ، نئی پالیسیوں کے فیصلے کرنے سے پہلے کہ ساتھ کون کھڑا تھا اور دشمن کے لشکر میں کون تھا ،جو آج ساتھ ہیں ، وہی اپنے ہیں، مودی بھی اتنا ہی دشمن ہے جتنا کہ نیتن یاہو ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایران کے یہ ہے کہ کے ساتھ ہوں گے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران