Daily Ausaf:
2026-06-03@07:25:32 GMT

یہ بھی میری ہی جنگ ہے

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ایران کےساتھ اختلاف و اتفاق کا معاملہ الگ، پالیسیوں سے اختلاف، پاکستان میں مداخلت پر اعتراض، پراکسیز پر تنقید یکسر مختلف، لیکن جب اسرائیل جیسا بدمعاش حملہ آور ہو تو پھر یہ بھی میری ہی جنگ ہے۔ جب نیتن یاہو للکارے یا ٹرمپ آنکھیں دکھائے تو میں ایران ہوں۔ کل بھارت اس غلط فہمی میں پاکستان پر حملہ آور ہوا تھا کہ یہاں کا فتنہ انتشار ان کا راستہ ہموار کرے گا، لیکن وہ فتنہ چاہ کر بھی کچھ نہ کر سکا، بھارت اور اس کے ایجنٹ دونوں ہی رسوا ہوئے۔ آج بھارت کا سرپرست، بلکہ’’ ماں جایا‘‘ بھی یہی سوچ کر ایران پر پل پڑا کہ امت منقسم ہے، لیکن شہباز شریف سے محمد بن سلمان تک اور احمد الشریع جولانی سے اردوان تک، سب نے ایران کے ساتھ اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جس طرح سے بنیان مرصوص ہونے کا ثبوت دیا ہے، یہ منظر یہود و ہنود اور ان کی ’’باوا آدم‘‘ کی موت ہے۔
یہ جنگ یہاں رکے گی نہیں، پھیلے گی۔ وقتی طور پر اگر امن کا وقفہ آ بھی گیا تو بہت مختصر ہوگا۔ یہ اللہ کے ماننے والوں اور اللہ کے باغیوں کے درمیان وہ آخری معرکہ ہو سکتا ہے جس کی بشارتیں اللہ کے نبی، آقا محمد ﷺ نے دے رکھی ہیں، لیکن اطمینان یہ ہے کہ اسرائیل کی اوچھی حرکت نے امہ کے تن مردہ میں جان ڈال دی ہے۔ وہ جو کل تک سود و زیاں کا حساب جوڑتے، امریکہ کی خوشنودی کی خاطر یہودیوں کو قبول کرنے کے راستے تلاش کر رہے تھے، انہیں بھی سمجھ آتی دکھائی دے رہی ہے۔ یقینا دنیا بدل رہی ہے، واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہو چکی ہے، وقت کے ساتھ یہ تقسیم بڑھے گی، تصادم کے امکانات بھی بڑھیں گے۔
یہ جنگ اپنے فیصلہ کن موڑ کی جانب بڑھتی ہے یا امن کے کسی مختصر وقفے کی طرف رخ کرتی ہے، اس میں امت کے لیے صرف مواقع ہی نہیں، سبق بھی ہیں۔اول یہ کہ یہود و ہنوداوران کےاتحادی کسی قیمت پرکسی مسلمان ملک کےحامی و ہمدرد نہیں ہو سکتے ، بھارت نےچاہ بہارسمیت ایران کے ساتھ بےشمار معاہدوں اورقربتوں کےباوجود دو ٹوک الفاظ میں اسرائیل کا ساتھ دےکر ثبوت مہیا کر دیا کہ آستین کے ان سانپوں کو جتنا بھی دودھ پلا لیں، یہ ڈسنے سے باز نہیں آئیں گے۔ لازم ہے کہ مسلم ممالک اپنے فیصلوں اورمعاہدوں میں ایران اور بھارت کے تعلقات اور انجام کو نہ بھولیں، خصوصاً عرب دوست، جو دل و جان سےبھارت پر فریفتہ ہیں اورمال ودولت لٹاتےچلےجارہے ہیں۔ ان کے لیے سبق ہے کہ خدانخواستہ وقت پڑا جو کہ اب زیادہ دور نہیں رہا ، تو یہی بھارت ان کا سب سے بڑا دشمن ہوگا، ان کے معاشروں میں پھیلے یہ بھارتی شہری دشمن کے سب سے بڑے جاسوس ثابت ہوں گے۔دوسرا سبق یہ کہ اختلافات جتنے بھی ہوجائیں، نفرتیں جتنی بھی بڑھ جائیں، یقینا ایران اور احمد الشریع سے زیادہ نہیں ہو سکتیں، لیکن جب وقت پڑتا ہے تو اپنے ہی کام آتے ہیں، زخموں کو بھول کر، نفرتوں کو نظرانداز کر کے۔ لازم ہے کہ مستقبل کی خارجہ پالیسیوں میں دھیان رکھاجائے کہ باہمی اختلاف اس حد تک نہ چلا جائے کہ کل اکٹھے بیٹھتے ہوئے نظریں جھکانا پڑیں۔
سب سے بڑھ کر، سب سے اہم یہ کہ دولت کے انبار ضرور لگائیں، عیاشیاں بھی کریں، لیکن نہ بھولیں کہ ’’ہےجرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات‘‘۔ دنیا طاقت کی ہے، کمزور کو کچل دیا جاتا ہے، اور کمزور اگر مسلمان ملک ہو تو پھر غلامی اس کا مقدر ہے۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان، ترکی اور کسی حد تک ایران اپنے دفاع کی صلاحیت رکھتے ہیں، باقی امت کہاں کھڑی ہے؟ یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ قطر،بحرین،سعودی عرب اور عراق میں امریکی افواج کے اڈےحقیقت بتانےکو کافی ہیں۔ ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت اور امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی اندھی حمایت کے بعد سوال یہ ہے کہ ان ممالک کا اگر اسرائیل سے کوئی تنازع ہوا جو کہ زیادہ دور نہیں ،تو کیا یہی امریکی اڈے ان کے دفاع کو نہیں روندیں گے؟
وقت کے قاضی کا یہ اٹل فیصلہ اب مان لینا چاہیے کہ آپس کی لڑائیوں میں یقینا امریکی آپ کے ساتھ ہوں گے، کیونکہ دونوں جانب گرنے والی لاشیں ان کے دشمن مسلمانوں کی ہوں گی، بصورت دیگر نہیں۔وقت آگیا ہےکہ دولت کے انبار رکھنے والے سوچیں، سمجھیں اور اس جنگ کا سب سے قیمتی سبق ازبر کر لیں کہ دفاع اولین ضرورت ہے، مانگے تانگے کا نہیں، اپنا بااختیار دفاع ،جیسا پاکستان کاہے یا کم ازکم ایران کا ۔ لازم ہےکہ سبق سیکھا جائے اور او آئی سی نام کے مردہ گھوڑے کو چابک رسید کر کے اٹھایا جائے۔ چڑیوں کے اس چنبےکو عقابوں کا جھنڈ بنایا جائے۔ عالمِ اسلام نیٹو کی طرز پر مشترکہ دفاع کا معاہدہ کرے، بنیان مرصوص کی بنارکھی جائے۔ پاکستان اور ترکی کی ٹیکنالوجی،عربوں کاپیسہ، ایرانیوں اور افغانیوں کا جذبہ،اورافریقی مسلمانوں کی افرادی قوت مل کر،متحد ہو کر اٹھیں گے، تو دنیامیں کوئی تمہاری ہوا کو بھی نہ دیکھ سکےگا۔ روس اور چین قدرتی اتحادی کے طور پر دستیاب ہوں گے، تو دنیا کی طاقت اور دنیا کے فیصلے امریکہ کے محتاج نہیں رہیں گے۔
اسرائیل اور ایران کی اس جنگ نے کتاب ہدائت کا وہ بھولا ہوا سبق بھی پھر سے یاد کروادیا ہےکہ وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِيَآءُ بَعْضٍ (انفال ۔73)یعنی یہ کافر آپس میں خواہ جتنی بھی دشمنی رکھتےہوں تمھارے خلاف سب کےسب ایک دوسرے کےمدد گار اور حمایتی ہیں۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ حملہ ایران پر ہوا ہے ، جنگ اسرائیل سے ہے ، لیکن یہود وہنود کا گٹھ جوڑ پاکستان کو بھی لپیٹنے کےچکرمیں ہے ، حکومت ہی نہیں ، میڈیا اور سوشل میڈیا کو بھی بیدار رہنے کی ضرورت ہے ، ہر اڑتی چڑیا کے پیچھے بھاگنا اور بظاہر خوشنما الفاظ کو بلا تصدیق آگے پھیلانا تباہ کن بھی ہو سکتا ہے ، سب سے بڑی مثال ایک روز قبل سوشل میڈیا پر آنے اور چھاجانے والی یہ خبر ہے ، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’’ایران نے کہا ہے کہ پاکستان نے اسرائیل پر ایٹمی حملہ کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔‘‘ اے آئی سے تیارکردہ یہ جعلی ویڈیو ایک ایسے اکائونٹ سے جاری کی گئی جو بھارتی راء آپریٹ کر رہی ہے ۔ اس جعلسازی کا واحد مقصد پاکستان کو ایک ایسے تنازعہ میں گھسیٹنے کی کوشش ہے جہاں اس نے واضح تزویراتی احتیاط برت رکھی ہے۔یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جنگ ٹھنڈے دماغ اور چوکس حواس کا کھیل ہے،جذباتیت اور نعرے بازی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ۔ دوسرے یہ کہ قومی سطح پر کھلنڈرے،لاابالی اورنعرے بازی کے مزاج سےنکل کر ذمہ دار ریاست کے ذمہ دار شہری بننےکی ضرورت ہے، جو لوگ دفاع وطن پر مامور ہیں ، یا جو ارباب بست وکشاد خارجہ امور کی گتھیاں سلجھانے کی ذمہ داریوں پر فائز ہیں ، وہ کسی بھی دوسرے سے زیادہ ملکی مفاد کو سمجھتے بھی ہیں اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کا ہنر بھی جانتے ہیں بلکہ اپنی مہارتوں کا لوہا کئی بات منوا چکے ہیں ۔
دشمنوں کی سازش واضح ہے، وہ ہمیں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ مسلکوں، قوموں، رنگوں اور زبانوں کے نام پر اندرون ملک اور عالمی سطح پر بھی ، لیکن ہمیں متحد ہونا ہے جیسے بدر میں تھے، جیسے یرموک میں تھے، جیسے ایوبی کے لشکر میں تھے۔ اب کوئی حجازی، کوئی عراقی، کوئی پاکستانی یا کوئی افغانی نہیں، اب صرف ایک پہچان مسلمان۔ امت کے جھنڈے تلے متحد ہوں گے تو فتح یاب ہوں گے کامران ٹھہریں گے ، ورنہ دشمن کے قدموں تلے روندے جائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ۔ کہتے ہیں جنگوں میں طعنے نہیں دئے جاتے ، لیکن ایک بات صرف ایک جملہ ایرانی بھائیوں سے بھی کہنا ضروری ہے کہ یہ جنگ ،ختم ہوجائے گی ، یہ مشکل گھڑی گزرجائے گی تو اک بار سوچنا ضرور ، آگے بڑھنے اور نئے دوست بنانے سے پہلے ، نئی پالیسیوں کے فیصلے کرنے سے پہلے کہ ساتھ کون کھڑا تھا اور دشمن کے لشکر میں کون تھا ،جو آج ساتھ ہیں ، وہی اپنے ہیں، مودی بھی اتنا ہی دشمن ہے جتنا کہ نیتن یاہو ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: ایران کے یہ ہے کہ کے ساتھ ہوں گے

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود