گیس سلنڈر کاجان لیوا کاروبار ملی بھگت سے دوبارہ شروع ہو گیا،ایم کیو ایم
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی نے اسلام آباد چوک گیس سلنڈر دھماکے اور اس کے نتیجے میں ایک بچے کے جاں بحق ہونے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ پولیس سول ڈیفنس اور دیگر ادارے اپنی ذمہ داری پوری کرتے تو یہ واقعہ رونما نہیں ہوتا ،گزشتہ سال گیس سلنڈر کے نتیجے میں سانحہ پریٹ آباد کے بعد ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی سے لیکر ہر فورم پر آواز اٹھائی اور اس کے انتظامیہ کے اجلاسوں کے بعد کاروبار کے لیے ایس او پیز طے ہوئیں لیکن بیوروکریسی نے اس میں رخنہ اندازی کر کے دیگر اداروں و با اثر شخصیات کے دبا و رشوت ستانی کے باعث تھوڑے عرصے بعد جگہ جگہ ایس او پیز کے بغیر کاروبار شروع ہو گئے ،حیدرآباد میں گیس کی لوڈ شیڈنگ ہے ،نئے گیس کنکشن پر پابندی ہے ،شام سے رات گئے تک کھانے پینے کی اشیا کا کاروبار کرنے والوں اور گھریلو استعمال کے لیے بڑے پیمانے پر گیس سلنڈر کی ضرورت ہوتی ہے، حق پرست اراکین سندھ اسمبلی و دیگر اسٹیک ہولڈرز کی مدد سے ایس او پیز طے کی گئیں تھیں کہ فلنگ کے بجائے سیل پیک سلنڈر فروخت کئے جائیں گے لیکن متعلقہ اتھارٹیز و بااثر شخصیات نے ایس او پیز کی دھجیاں اڑا دیں اور یہ جان لیوا کاروبار ملی بھگت سے دوبارہ شروع ہو گیا، حق پرست اراکین سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ ان ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے والوں کا محاسبہ کیا جائے کہ کیوں عوام کی جان سے کھیلنے کی اجازت دی گئی ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایس او پیز گیس سلنڈر
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔