اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات کو سمجھنا ضروری ہے،خالدمقبول صدیقی
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
اسلام آباد: وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات کو سمجھنے اور اپنانے کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعلیم ہی نسلوں میں انقلاب لانے کا واحد راستہ ہے۔
وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں سمر فیسٹا2025کے آغاز پر اسلام آباد کالج فار گرلز ایف سکس ٹو میں سمر فیسٹا کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ تعلیم ہی نسلوں میں انقلاب لانے کا واحد راستہ ہے، ہم نوجوانوں کو تربیت اور ہنر دے کر بااختیار بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین آدھا آسمان رکھتی ہیں، ان کے لیے تعلیم اور ہنر نہایت اہم ہے، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے بدلتے رجحانات کو سمجھنا اور اپنانا وقت کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ سمر فیسٹا میں مختلف فنی اور تخلیقی کورسز بچوں کو مفت فراہم کیے جا رہے ہیں تعطیلات میں یہ کورسز بچوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔