ہم نے مسلم دنیا کو جوڑا، اب دنیا کو امن کی طرف لانا ہے، بیرسٹر عقیل ملک
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہےکہ پاکستان نے مسلم دنیا کو یکجا کیا، ایران پر اسرائیلی حملہ غیرقانونی ہے اور دفاع کا حق موجود ہے، امجد علی خان نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اصولی، متوازن اور عالمی حالات کے مطابق ہے۔ سید علی موسیٰ گیلانی کا کہنا تھا کہ ایران جب تک کوئی بڑا قدم نہیں اٹھائے گا، دنیا صرف باتیں ہی کرتی رہے گی۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں منیزے جہانگیر سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستان کی خارجہ پالیسی، ایران اسرائیل کشیدگی، امریکہ سے تعلقات اور ملکی سیاسی صورتحال پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔
رہنما پی ٹی آئی امجد علی خان نے کہا کہ پچھلے دو ماہ کے بین الاقوامی حالات میں پاکستان نے جو فارن پالیسی اپنائی، وہ نہ صرف اصولی طور پر درست تھی بلکہ 20 ممالک کو اکٹھا کرکے مشترکہ اعلامیہ جاری کرنا سفارتی سطح پر اہم پیش رفت ہے۔
پیپلز پارٹی کے رہنما سید علی موسیٰ گیلانی نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ہندوستان کے مقابلے میں بہتر مؤقف اختیار کیا، تاہم ایران کو جب تک کوئی بڑا ہدف حاصل نہیں ہوتا، دنیا اسے سنجیدگی سے نہیں لے گی۔ انہوں نے بھی ایران کے دفاعی حق کی تائید کی۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان نے مسلم ممالک کو یکجا کرنے کی کوشش کی ہے، اور اس حوالے سے اسحاق ڈار سینیٹ میں بھی بات کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حملے غیر قانونی اور اشتعال انگیز تھے، اور ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے قوانین اور رول بیسڈ آرڈر پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی غیر قانونی حملے کی مخالفت کرتا ہے۔
خواجہ آصف کی رضا پہلوی سے متعلق ٹوئیٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے امجد علی خان، علی موسیٰ گیلانی اور بیرسٹر عقیل ملک تینوں نے محتاط سفارتی زبان اختیار کرنے پر زور دیا۔ بیرسٹر عقیل نے کہا کہ ٹوئیٹ کے انداز سے اختلاف ہے، لیکن اس کے مواد سے اصولی اتفاق کیا جا سکتا ہے، کیونکہ رضا پہلوی کو مغربی میڈیا بلاوجہ نمایاں کر رہا ہے۔
پاکستان کے عالمی کردار اور آرمی چیف کی امریکہ میں موجودگی کے تناظر میں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے مؤقف کو واضح انداز میں پیش کر رہا ہے۔ بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ پاکستان رجیم چینج پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتا اور مسلم ممالک کے خلاف کسی بھی منصوبے کا حصہ نہیں بنے گا۔
آئی ایم ایف کی شرائط اور ٹیکس پالیسی سے متعلق سوال پر بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ فنانس منسٹری نے تجاویز دی ہیں جن پر وزیراعظم نے نوٹس لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اکٹھا کرنا اہم ہے لیکن اختیارات کے غلط استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عمران خان کو وکیلوں سے ملاقات کی اجازت پر گفتگو کرتے ہوئے علی موسیٰ گیلانی نے کہا کہ بطور سیاسی کارکن وہ سمجھتے ہیں کہ خان صاحب کو ملاقات کا حق ملنا چاہیے۔ وزیر مملکت نے وضاحت دی کہ سیکیورٹی ایجنسیز کی رپورٹ کی بنیاد پر ملاقاتوں پر کچھ پابندیاں لگائی گئیں تاکہ جیل کے باہر لا اینڈ آرڈر کی صورتحال خراب نہ ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر عقیل ملک نے نے کہا کہ پاکستان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے علی موسی
پڑھیں:
ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭