اسپیکر پروڈکشن آرڈرز قوانین کیلیے درخواست پر فیصلہ کریں، لاہور ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں ممبران اسمبلی کے پروڈکشن قوانین میں ترامیم کی درخواست پر سماعت، جسٹس خالد اسحاق نے درخواست سپیکر قومی اسمبلی اور اسمبلی کو بھجوا تے ہوئے نمٹا دیں۔ عدالت نے کہا کہ اسپیکر پروڈکشن آرڈرز قوانین کیلیے درخواست پر فیصلہ کریں، درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ممبر اسمبلی ملزم ریمانڈ پر ہو تو پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہو سکتے، پروڈکشن آرڈرز قوانین میں ترامیم کی ضرورت ہے، معاملہ اگر ا سپیکر قوانین میں ترامیم کیلیے بھجوا دیا جائے تو ٹھیک ہے، نیب، دہشت گردی ودیگر قوانین کو پیش نظر رکھ بنانے چاہیے، 2019 میں شہباز شریف و دیگر ان کے پروڈکشن آرڈرز کو چیلنج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پروڈکشن ا رڈرز
پڑھیں:
بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
بیرون ملک سفری پابندیوں سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صرف اوور اسٹے پر دوسرے ملک سے ڈی پورٹ ہونا سفری پابندی کا جواز نہیں، جسٹس محمد آصف نے چار صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے دوسرے ملک سے اوور اسٹے پر ڈی پورٹ ہونے پر پی سی ایل میں نام ڈالنے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم دے دیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ سفری پابندی کے لیے کسی جرم ، سیکیورٹی خدشے یا ناقابل تردید ثبوت کا وجود ضروری ہے، بغیر جرم شہری کے بیرونِ ملک سفر اور روزگار کے آئینی حق پر پابندی لگانے کا جواز نہیں۔
عدالت نے کہا کہ سفری پابندی کا اقدام آئین کے آرٹیکل 4، 9، 10-A، 15، 18 اور 25 کی خلاف ورزی ہے۔ شہری کا نام اس طرح سفری پابندی لسٹ میں رکھنا آئین کے بنیادی حقوق اور قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق وفاقی حکومت نے بتایا کہ خلیجی ملک میں اوور اسٹے کی وجہ سے شہری ڈی پورٹ ہوا، وفاقی حکومت کا موقف ہے پالیسی کی تحت شہری کا نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا گیا، وفاقی حکومت کے مطابق دوسرے شہریوں کے ویزوں کے تحفظ اور ملک کے وقار کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا۔