امریکی معیشت کے گلے کا پھندا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: امریکی معیشت ایک سنگین بحران کے دہانے پر ہے، آبنائے ہرمز میں کوئی بھی کشیدگی امریکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے، امریکہ کے بین الاقوامی حریف پہلے ہی اس صورتحال انتظار کر رہے ہیں۔ ایران تیل کی قیمت میں 10 سے 15 ڈالر تک اضافے کا جھٹکا لگا کر تیل کی سپلائی مارکیٹ میں خلل ڈال سکتا ہے۔ یوں امریکیوں کے لیے ایران آسان ہدف نہیں ہے اور ایران کے مقابلے پر آنیوالوں کو کئی ایشوز کو مدنظر رکھنا پڑیگا۔ محمود کریمی کی خصوصی رپورٹ:
ایران اور صیہونی حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے سائے میں آبنائے ہرمز میں جنگ کے خدشات اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں۔ اقتصادی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بحران امریکہ میں پٹرول کی قیمت کو 5 ڈالر فی گیلن تک پہنچا سکتا ہے اور یہ بحران امریکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز تیل کی عالمی تجارت تقریباً 30 فیصد کے لیے تزویراتی راستہ ہے، یہاں ہونیوالے فوجی تصادم سے امریکہ میں تیل اور پٹرول کی قیمتیں شدید متاثر ہوں گی۔ اب بھی کچھ امریکی ریاستوں میں پٹرول تقریباً 5 ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کا مطلب امریکی گھرانوں پر براہ راست مالی دباؤ ہے۔ یہ دباؤ جو عوامی بے چینی اور حکومت کے لیے سنگین سیاسی چیلنجز کا باعث بن سکتا ہے۔ افراط زر اس بحران کے براہ راست نتائج میں سے ایک ہے۔ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ قدرتی طور پر سازوسامان اور خدمات کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ فیڈرل ریزرو کے مطابق خوراک کی قیمت میں 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ صرتحال لوگوں کی قوت خرید میں کمی کے ساتھ، نجی کھپت کو متاثر کرے گی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی جی ڈی پی کی شرح نمو 0.
اس کے علاوہ، ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم آمدنی والے گھرانوں پر اضافی دباؤ ڈالیں گے۔ مثال کے طور پر اگر ایندھن کی لاگت میں 30% اضافہ ہوتا ہے تو ماہانہ 3000 ڈالر کمانے والا خاندان ایندھن کے لیے 450 ڈالر مزید ادا کر یگا۔ یہ صورتحال لوگوں طرز زندگی میں تبدیلی اور غیر ضروری سفر کو کم کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔ الیکٹرک کاروں کی فروخت میں بھی 25 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔ کاروباری اداروں پر بھی نمایاں طور پر دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ مقامی ریستورانوں اور اسٹورز کو گاہکوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑے گا، اور ان میں سے بہت سے دیوالیہ ہو سکتے ہیں۔ اس صورت حال میں سماجی عدم استحکام اور عوامی عدم اطمینان کا امکان زیادہ ہو جائیگا۔
اس جنگ کے بین الاقوامی اثرات عالمی سپلائی چین میں خلل اور اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اس وقت جب امریکی سرکاری قرض 36 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، امریکی حکومت اپنی معیشت پر مزید دباؤ ڈالے بغیر جنگ کی مالی اعانت کرنے سے قاصر ہے۔ اسرائیل کی مالی معاونت کی صورت میں زیادہ اخراجات، ٹیکسوں میں اضافے، عوامی خدمات جیسے تعلیم اور صحت میں کٹوتیوں کا امکان عوامی بے چینی کو بڑھا سکتا ہے۔ اس بحران کیوجہ سے امریکہ کو مزید سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں اور معاشی نمو میں کمی "جمود" کا باعث بن سکتی ہے۔
یہ صورتحال امریکی معاشرے کے متوسط اور نچلے طبقے پر مزید دباؤ ڈالے گی اور شرح سود میں اضافے کا باعث بنے گی، کیونکہ عام آدمی کے لئے یہ ایک غیر اعلانیہ ٹیکس ہوگا۔ اس کے علاوہ، حالیہ چین امریکہ تجارتی جنگ کا تجربہ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا معاشی دباؤ امریکی حکام کے اس جنگ میں نہ آنے کے فیصلوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس صورتحال میں ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی جنگ میں اترنے کے بارے میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ مذکورہ اقتصادی حقائق اور داخلی دباؤ امریکی فیصلہ سازوں کو اپنی خارجہ پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنے اور مغربی ایشیا میں ایک اور جنگ میں داخل ہونے سے روکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
پہلے ہی امریکی معیشت ایک سنگین بحران کے دہانے پر ہے، آبنائے ہرمز میں کوئی بھی کشیدگی امریکی معیشت کو تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے، امریکہ کے بین الاقوامی حریف پہلے ہی اس صورتحال انتظار کر رہے ہیں۔ ایران تیل کی قیمت میں 10 سے 15 ڈالر تک اضافے کا جھٹکا لگا کر تیل کی سپلائی مارکیٹ میں خلل ڈال سکتا ہے۔ یوں امریکیوں کے لیے ایران آسان ہدف نہیں ہے اور ایران کے مقابلے پر آنیوالوں کو کئی ایشوز کو مدنظر رکھنا پڑیگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بین الاقوامی امریکی معیشت میں اضافے کا کا باعث بن سکتی ہے کی قیمت ڈالر تک سکتا ہے تیل کی کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔