Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:25:50 GMT

بڑی طاقتوں میں تقسیم اسرائیل ایران جنگ بندی میں رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

بڑی طاقتوں میں تقسیم اسرائیل ایران جنگ بندی میں رکاوٹ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) ایران ،اسرائیل تنازعے پر بڑی طاقتوں میں تقسیم جنگ بندی میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں مزیدبڑھنے کاخدشہ موجود ہے، امریکی صدرٹرمپ کی طرف سے ایران کے معاملے پر بارہاموقف تبدیل کیاجارہاہے ، چند روز قبل صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیاپر ایک حوصلہ افزاء بیان جاری
کیا،جس میں انہو ںنے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے کرداراداکرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہاہیکہ وہ اسرائیل اور ایر ان کے درمیان بھی ویسے ہی ڈیل کراسکتے ہیں ،جیسے انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرائی ،ان کے اس بیان سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جلدجنگ بندی کی امیدپیداہوگئی تھی ، تاہم اگلے ہی روز ایک انٹرویومیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرح سے یوٹرن لیتے ہوئے یہ عندیہ دے دیا کہ امریکا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہو سکتا ہیاور اب وہ ایران کو واضح طورپر دھمکیاں دے رہے ہیں اورجنگ بندی کے لئے شرائط پیش کررہے ہیں،اسی طرح جرمن چانسلر کی طرف سے بھی ٹرمپ کے موقف کی تائیدکرتیہوئے کہاجارہاہے کہ ایران کاایٹمی پروگرام روکناضرور ی ہے، ادھرروس اور چین کی طرف سے اسرائیل ،ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے اپناکرداراداکرنی کی پیشکش کی جارہی ہے لیکن امریکہ سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادیوں کے غیرذمہ دارانہ طرزعمل کی وجہ سے اس پرٹھوس پیشرفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی،ٹرمپ ایک طرف اسرائیل ایران جنگ کو بڑھاوادینے کی باتیں کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان اوربھارت درمیان جنگ بندی کرانے کاکریڈٹ لیتے ہوئے امن کے نوبل امن ایوارڈکے بھی خواہشمندہیں ،جو ان کے دہرے معیارکو ظاہرکررہاہے،ٹرمپ اگرواقعی امن کے علمبردارہیں تو انہیں اس کا عملی ثبوت دیناچاہئیاوراسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے چین اور روس کے ساتھ مل کر کوششیں کریں، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کیباعث دنیابڑی طاقتوں کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ اگراس جنگ برقت نہ روکاگیاتو اس محاذ آرائی سے صرف اسرائیل اور ایران ہی متاثرنہیں ہوں گے بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آسکتاہے،اس لئے جنگ بندی اس وقت محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ،ایسی صورت حال میں صدرٹرمپ کی طرف سے اسرائیل ،ایران جنگ کاحصہ بننے کے بیانات دنیاکی پریشانی میں اضافے کاباعث ہیں، خدانخواستہ اگر امریکہ ایساکوئی اقدام اٹھاتاہے تو پھریہ اس کی سٹرٹیجک غلطی ہوگی اور اس سے تیسری عالمی جنگ چھڑسکتی ہے کیونکہ امریکہ کے جنگ میں کودنے کی صورت میں خطے کی وہ طاقتیں بھی اس لڑائی میں شامل ہوجائیں گی جو اس وقت جنگ بندی کی خواہاں ہیں ،لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ امریکہ خصوصاًصدرٹرمپ کو غیرذمہ دارانہ بیانات دینے کی بجائے اسرائیل اورایران جنگ کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیارکرتے ہوئے یہ جنگ رکوانے کے لئے اپنامثبت کرداراداکرناچاہئے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیل اور ایران ایران کے درمیان درمیان جنگ بندی جنگ بندی کے لئے ایران جنگ کی طرف سے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان