Daily Mumtaz:
2026-07-24@03:42:27 GMT

بڑی طاقتوں میں تقسیم اسرائیل ایران جنگ بندی میں رکاوٹ

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

بڑی طاقتوں میں تقسیم اسرائیل ایران جنگ بندی میں رکاوٹ

اسلام آباد(طارق محمودسمیر) ایران ،اسرائیل تنازعے پر بڑی طاقتوں میں تقسیم جنگ بندی میں بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے خطے میں کشیدگی میں مزیدبڑھنے کاخدشہ موجود ہے، امریکی صدرٹرمپ کی طرف سے ایران کے معاملے پر بارہاموقف تبدیل کیاجارہاہے ، چند روز قبل صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیاپر ایک حوصلہ افزاء بیان جاری
کیا،جس میں انہو ںنے اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے کرداراداکرنے کاعندیہ دیتے ہوئے کہاہیکہ وہ اسرائیل اور ایر ان کے درمیان بھی ویسے ہی ڈیل کراسکتے ہیں ،جیسے انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کرائی ،ان کے اس بیان سے اسرائیل اور ایران کے درمیان جلدجنگ بندی کی امیدپیداہوگئی تھی ، تاہم اگلے ہی روز ایک انٹرویومیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک طرح سے یوٹرن لیتے ہوئے یہ عندیہ دے دیا کہ امریکا ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شامل ہو سکتا ہیاور اب وہ ایران کو واضح طورپر دھمکیاں دے رہے ہیں اورجنگ بندی کے لئے شرائط پیش کررہے ہیں،اسی طرح جرمن چانسلر کی طرف سے بھی ٹرمپ کے موقف کی تائیدکرتیہوئے کہاجارہاہے کہ ایران کاایٹمی پروگرام روکناضرور ی ہے، ادھرروس اور چین کی طرف سے اسرائیل ،ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے اپناکرداراداکرنی کی پیشکش کی جارہی ہے لیکن امریکہ سمیت اسرائیل کے مغربی اتحادیوں کے غیرذمہ دارانہ طرزعمل کی وجہ سے اس پرٹھوس پیشرفت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی،ٹرمپ ایک طرف اسرائیل ایران جنگ کو بڑھاوادینے کی باتیں کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان اوربھارت درمیان جنگ بندی کرانے کاکریڈٹ لیتے ہوئے امن کے نوبل امن ایوارڈکے بھی خواہشمندہیں ،جو ان کے دہرے معیارکو ظاہرکررہاہے،ٹرمپ اگرواقعی امن کے علمبردارہیں تو انہیں اس کا عملی ثبوت دیناچاہئیاوراسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لئے چین اور روس کے ساتھ مل کر کوششیں کریں، مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کیباعث دنیابڑی طاقتوں کی طرف دیکھ رہی ہے کیونکہ اگراس جنگ برقت نہ روکاگیاتو اس محاذ آرائی سے صرف اسرائیل اور ایران ہی متاثرنہیں ہوں گے بلکہ پورا خطہ لپیٹ میں آسکتاہے،اس لئے جنگ بندی اس وقت محض ایک آپشن نہیں بلکہ ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے ،ایسی صورت حال میں صدرٹرمپ کی طرف سے اسرائیل ،ایران جنگ کاحصہ بننے کے بیانات دنیاکی پریشانی میں اضافے کاباعث ہیں، خدانخواستہ اگر امریکہ ایساکوئی اقدام اٹھاتاہے تو پھریہ اس کی سٹرٹیجک غلطی ہوگی اور اس سے تیسری عالمی جنگ چھڑسکتی ہے کیونکہ امریکہ کے جنگ میں کودنے کی صورت میں خطے کی وہ طاقتیں بھی اس لڑائی میں شامل ہوجائیں گی جو اس وقت جنگ بندی کی خواہاں ہیں ،لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ امریکہ خصوصاًصدرٹرمپ کو غیرذمہ دارانہ بیانات دینے کی بجائے اسرائیل اورایران جنگ کے حوالے سے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیارکرتے ہوئے یہ جنگ رکوانے کے لئے اپنامثبت کرداراداکرناچاہئے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اسرائیل اور ایران ایران کے درمیان درمیان جنگ بندی جنگ بندی کے لئے ایران جنگ کی طرف سے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم