پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان ریلویز نے بھی کرایے بڑھا دیے
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پاکستان ریلویز نے بھی اپنے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ کر دیا ہے، ریلویز حکام نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کرایوں میں اضافے کی تصدیق کر دی ہے۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ترجمان پاکستان ریلویز کاکہنا ہےکہ مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں 3 فیصد جبکہ فریٹ (مال بردار) ٹرینوں کے کرایوں میں 4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، کرایوں میں حالیہ اضافہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں اضافے کے پیشِ نظر کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی بڑھتی ہوئی لاگت کو جزوی طور پر پورا کیا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق مسافر ٹرینوں کے کرایوں میں اضافے کا اطلاق 20 جون 2025 سے ہوگا جبکہ فریٹ وین کے کرایوں میں اضافہ 23 جون 2025 سے نافذ العمل ہوگا۔
ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ملک بھر میں چلنے والی تمام زونوں کی ٹرینوں پر لاگو ہوگا، تاہم مخصوص رعایتی زمرے (جیسا کہ بزرگ شہری، طلبا، معذور افراد) کے کرایوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
ریلوے حکام نے کہا ہے کہ ایندھن کے نرخوں میں اضافے کا ریلوے کے آپریشنل اخراجات پر گہرا اثر پڑتا ہے اور اگر یہ اقدامات نہ کیے جائیں تو ریلوے کو بھاری مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مسافروں نے ایک جانب ریلوے کرایوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، وہیں مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کو یقینی بنانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جلد از جلد کمی کرے تاکہ ٹرانسپورٹ کے تمام شعبے بشمول ریلویز مستحکم رہ سکیں۔
یاد رہے کہ ملک میں چند روز قبل حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 50 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 12 روپے 50 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا، جس کا فوری اثر ٹرانسپورٹ اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹرینوں کے کرایوں میں قیمتوں میں میں اضافے کی قیمتوں
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔