ایران، اسرائیل کے درمیان اور غزہ میں جو چل رہا ہے اس میں امریکا کا کردار مایوس کن ہے، ملالہ یوسفزئی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
ایران، اسرائیل کے درمیان اور غزہ میں جو چل رہا ہے اس میں امریکا کا کردار مایوس کن ہے، ملالہ یوسفزئی WhatsAppFacebookTwitter 0 18 June, 2025 سب نیوز
لندن (آئی پی ایس )نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن ملالہ یوسفزئی نے کہا ہیکہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جو ہورہا ہے یا غزہ میں جو کچھ چل رہا ہے اس میں امریکا کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس جو طاقت ہے یا جو وہ اثر رکھتا ہے وہ امن قائم کرنے میں ناکام رہا ہے، امریکا استحکام اور انسانی حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ملالہ نے کہا کہ میں امید کرتی ہوں کہ امریکا اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کی جانے والی نسل کشی سے متعلق کچھ کرے گا اور اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکیش لیس اکانومی اور معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کیش لیس اکانومی اور معیشت کی ڈیجیٹائیزیشن کیلئے اعلی سطحی کمیٹی قائم کلبز لوگوں کی عیاشی کیلئے ہیں‘، چیئرمین ایف بی آر، بڑے کلبز پر ٹیکس لگانے کی تجویز منظور ایران-اسرائیل جنگ رکوانے کیلئے عالمی برادری فوری اقدامات کرے، وزیراعظم فیلڈ مارشل کو وائٹ ہاؤس میں بڑا پروٹوکول:ٹرمپ کی جانب سے ظہرانہ، کوئی سیاسی قیادت ہمراہ نہیں، تفصیلات سب نیوز پر مولانا فضل الرحمان کے چھوٹے فرزند اسجد محمود پر حملے کا انکشاف حکومت کا عوامی مطالبے پر بڑا فیصلہ؛ سولر پینل پرعائد ٹیکس کم کرنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: رہا ہے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔