انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے 10ویں ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے شیڈول کا اعلان کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: ویمنز ورلڈ کپ کا شیڈول جاری، پاک بھارت مقابلہ 5 اکتوبر کو ہوگا

آئی سی سی کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق یہ ٹورنامنٹ آئندہ سال 12 جون سے 5 جولائی تک انگلینڈ میں کھیلا جائے گا جس میں دنیائے کرکٹ کی صف اول کی خواتین ٹیمیں عالمی چیمپیئن بننے کے لیے مدمقابل ہوں گی۔

پاکستان ویمنز ٹیم کو گروپ ون میں شامل کیا گیا ہے جہاں وہ آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، روایتی حریف بھارت اور 2 کوالیفائر ٹیموں کا سامنا کرے گی۔

پاکستان اپنا پہلا میچ 14 جون کو بھارت کے خلاف ایجبسٹن میں کھیلے گا جو ٹورنامنٹ کا ایک اہم اور سنسنی خیز مقابلہ ہو گا۔

مزید پڑھیے: پاکستان اور بنگلہ دیش نے ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کے لیے کوالیفائی کرلیا

دوسرا میچ 17 جون کو جنوبی افریقہ کے خلاف ایجبسٹن ہی میں شیڈول ہے جبکہ تیسرا میچ 20 جون کو کوالیفائر ٹیم کے خلاف ساؤتھمپٹن میں ہو گا۔

چوتھے میچ میں پاکستان کا مقابلہ 23 جون کو ہیڈنگلے میں آسٹریلیا سے ہو گا۔

گروپ مرحلے کا آخری میچ پاکستان 27 جون کو کوالیفائر ٹیم کے خلاف برسٹل کاؤنٹی گراؤنڈ میں کھیلے گا۔

ٹورنامنٹ کا پہلا سیمی فائنل 30 جون اور دوسرا سیمی فائنل 2 جولائی کو لندن کے اوول کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جائے گا جبکہ فائنل میچ 5 جولائی کو کرکٹ کے تاریخی میدان لارڈز میں ہو گا۔

قبل ازیں آئی سی سی نے ویمنز ورلڈکپ 2025 کے شیڈول کا اعلان بھی کیا تھا جس کے تحت پاکستان ٹیم اپنے میچز بھارت کی بجائے نیوٹرل مقام پر کھیلے گی۔

شیڈول کے مطابق ویمنز ورلڈ کپ کے میچ 30 ستمبر سے 2 نومبر 2025 تک بھارت اور سری لنکا میں کھیلے جائیں گے۔ پاکستانی ٹیم کے مقابلے کولمبو میں ہوں گے۔

ویمنز ورلڈ کپ کے میچز دونوں ممالک کے 5 شہروں میں ہوں گے جن میں بینگلورو، ویزاگ (وشاکھا پٹنم)، اندور، گوہاٹی اور کولمبو شامل ہیں۔

ایک سیمی فائنل بینگلورو میں ہوگا جب کہ دوسرا کولمبو یا گوہاٹی میں کھیلا جائے گا۔ فائنل 2 نومبر کو بینگلورو یا کولمبو میں منعقد ہونے کا شیڈول ہے۔

مزید پڑھیں: آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ 2025 کوالیفائرز، کون سی ٹیمیں قسمت آزمائی کریں گی؟

کل 8 ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ راؤنڈ روبن فارمیٹ میں کھیلا جائے گا جس میں تمام ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف میچز کھیلیں گی اور سرفہرست 4 ٹیمیں سیمی فائنلز کے لیے کوالیفائی کریں گی۔

پاکستانی ٹیم اپنا پہلا میچ 2 اکتوبر کو بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گی۔ اس کا مقابلہ بھارت سے 5 اکتوبر کو، آسٹریلیا سے 8 اکتوبر، انگلینڈ سے 15 اکتوبر، نیوزی لینڈ سے 18، جنوبی افریقہ سے 21 اکتوبر اور سری لنکا سے 24 اکتوبر کو ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی سی پاک بھارت کرکٹ مقابلہ پاک بھارت ویمنز کرکٹ مقابلہ قومی ویمنز کرکٹ ٹیم ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاک بھارت کرکٹ مقابلہ قومی ویمنز کرکٹ ٹیم ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سیمی فائنل ویمنز کرکٹ ویمنز ورلڈ اکتوبر کو میں کھیلے کے خلاف ورلڈ کپ جائے گا میں ہو کے لیے جون کو

پڑھیں:

شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟

کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔

ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔

ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔

ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔

دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔

قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
  • پی سی بی کا چاچا کرکٹ کیلیے یادگاری تحفہ
  • ویمنز ٹی20 رینکنگ؛ پاکستانی اسپنر سعدیہ اقبال بڑے اعزاز سے محروم
  • پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی