امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کرانے کا کریڈٹ لے لیا۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے پاکستان اوربھارت کی جنگ رکوائی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ پاکستانی بہت اچھے لوگ ہیں، پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے، میں پاکستان کوپسند کرتا ہوں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے آرمی چیف اپنے ملک کی ایک بااثر شخصیت ہیں اور انہوں نے پاکستان کی طرف سے جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔

خیال رہےکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔

برطانوی خبرساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ آج ظہرانےمیں شریک ہوں گے، ابھی یہ واضح نہیں کہ ظہرانے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان کیا بات چیت ہوگی، ظہرانے میں پریس کی بھی شرکت نہیں ہوگی۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر کے درمیان غیر معمولی ملاقات بھارت کو پریشان کرسکتی ہے۔

دوسری جانب بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارتی وزیراعظم مودی نے امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ 35 منٹ طویل ٹیلی فونک گفتگو کی۔

بھارتی سیکرٹری خارجہ کے مطابق مودی نےٹرمپ کو کہا کہ پاکستان سےتنازع پربھارت تیسرےفریق کی ثالثی قبول نہ کرتاہے اور نہ کرےگا۔

وکرم مسری کے مطابق نریندر مودی نے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے ٹرمپ کو کہا کہ آپریشن سندور تاحال جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکی صدر کے مطابق کہا کہ

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟