قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں نوید قمر اور عمر ایوب کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں چیئرمین نوید قمر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ہوا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، اجلاس کے دوران پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب نے ایف بی آر سے امپورٹ پالیسی سے متعلق سوال کیا کہ امپورٹ پالیسی سمجھایا جائے یہ کیا ماڈل ہے، جس پر چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اس ماڈل کو سمجھنے کے لیے وقت چاہیئے، آپ 2 گھنٹے دیں، ہم آپ کو علحیدہ پورا طریقہ کار سمجھا دیں گے۔
عمر ایوب نے کہا کہ یہ انگریزی لکھ دیتے ہیں ایک لائن میں سمجھا نہیں پاتے مطلب جواب ان کے پاس نہیں ہے، آپ ہمیں یہاں مختصرا بریف کردیں یہ کیا ہے، ابھی ہمارے پاس وقت نہیں 4 دن میں کمیٹی تجاویز فائنل کرنی ہے۔
اس مقع پر چیئرمین کمیٹی نوید قمر اور عمر ایوب کے درمیان تلخی دیکھنے میں آئی، عمر ایوب نے کہا کہ یہ رویہ مناسب نہیں ان کو جواب دینا چاہیئے، جس پر نوید قمر نے کہا کہ فی الحال اس پر بات نہیں کرسکتے آپ آگے بڑھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: نے کہا کہ عمر ایوب نوید قمر
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔