سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ امریکی صدر اور پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان ہونے والی ملاقات تاریخ ساز ثابت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک “جیتے ہوئے سپہ سالار” کو بھرپور عزت اور پروٹوکول دیا، جو ماضی میں کسی پاکستانی آرمی چیف کو حاصل نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے دورہ امریکا میں کس کس سے ملاقات کی ؟

فیصل واوڈا نے نجی ٹیلیویژن  سے گفتگو میں کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف فاتح سپہ سالار کی حیثیت سے امریکا گئے بلکہ اُن کی قیادت ہی کی بدولت آج دنیا میں پاکستان کو عزت اور وقار حاصل ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اپنے بیان میں جو الفاظ ادا کیے وہ دراصل پاکستان کی کامیابی کا اعتراف ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جنہوں نے ہر ممکن تعاون کیا۔

فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ وہ پہلے ہی پیش گوئی کر چکے تھے کہ پاکستان کے لیے بڑی خوشخبریاں آنے والی ہیں، اور فیلڈ مارشل کی دیانتداری اور جرات ہی اُن کے احترام کا باعث بنی۔

ٹرمپ کی جانب سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کو ’اعزاز‘ قرار دیا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وہ فیلڈ مارشل کو خاص طور پر جنگ نہ کرنے پر شکریہ ادا کرنے کے لیے مدعو کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:عاصم منیر بااثر شخصیت، ایٹمی ملک پاکستان کو پسند کرتا ہوں، ٹرمپ کا فیلڈ مارشل سے ملاقات سے قبل اہم بیان

صدر ٹرمپ نے کہا، پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں، اور کشیدگی میں کمی ایک مثبت قدم ہے۔ ہم پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدوں پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔

انہوں نے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خطے میں امن کو ترجیح دی، جو عالمی برادری کے لیے ایک مثبت پیغام ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹرمپ صدر ٹرمپ عاصم منیر فیلڈ مارشل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: فیلڈ مارشل فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر فیصل واوڈا سے ملاقات کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار