تیز رفتار ڈمپر کار پر الٹنے سے ماں بیٹی جاں بحق، بچی زخمی
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ویب ڈیسک: شہر قائد میں تیز رفتار ڈمپر کار پر الٹ گیا، جس کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ ڈرگ روڈ کے قریب پیش آیا جہاں ایک خاتون اور ایک بچی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئیں، جبکہ ایک اور بچی کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈمپر کے نیچے آ جانے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور افراد گاڑی میں پھنس گئے تھے۔
ریپ کے مجرم کو 25 سال قید کی سزا
حادثے کے بعد موقع پر ہیوی کرین اور لفٹر طلب کر لیا گیا، جس کی مدد سے ڈمپر کو گاڑی کے اوپر سے ہٹا کر نعشوں اور زخمیوں کو نکالا گیا، ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے امدادی سرگرمیاں انجام دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔