ایران پر اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکا میں احتجاجی مظاہرے
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
ایران پر اسرائیلی حملوں کے خلاف امریکا میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔
واشنگٹن میں ایرانی اور فلسطینی پرچم لہراتے لوگوں نے وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔
خبر ایجنسی کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں آرتھوڈوکس یہودیوں نے بھی شرکت کی۔
خبر ایجنسی کے مطابق نیویارک شہر میں بھی سینکڑوں افراد نے احتجاجی ریلی نکالی۔ مظاہرین نے امریکا اور اسرائیل سے مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔
روس نے ایک بار پھر امریکا کو خبردار کردیا کہ امریکا، اسرائیل ایران تنازع میں فوجی مداخلت سے گریز کرے۔
ماسکو سے خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی شہر بوشہر میں جوہری پلانٹ میں روسی ماہرین کام کر رہے ہیں اور بوشہر میں ایران کا واحد فعال جوہری پاور پلانٹ ہے۔
روس نے اسرائیل سے ایرانی شہر بوشہر پر فضائی حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔