عزاداری کانفرنس سے خطاب میں چیئرمین ایم ڈبلیو ایم پاکستان نے کہا کہ پاکستان کو پاور پولیٹکس نے برباد کیا، عزاداری کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ہے، امام حسینؑ کا سجدے میں سر کٹانا خدا کے ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے، پنجاب حکومت نے مشی کو روکنے کی حماقت کی تو سینوں پر گولیاں کھاکر جلوسوں میں شرکت کریں گے۔ عزاداران کے خلاف مقدمات یزیدی طرز حکومت ہے، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری  

اسلام ٹائمز۔ اس محرم میں اہل منبر امامت کے اسلوب حکومت و سیاست لوگوں کے سامنے بیان کریں، چودہ سو سالوں سے نواسہ رسولؐ امام حسینؑ کی یاد میں عزاداری جاری ہے لیکن افسوس ہمارے ملک میں یزیدی طرز پر عزاداری کے خلاف مقدمے درج ہوتے ہیں، ایسے ایسے علماء و ذاکرین پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، ان کی زبان بندی اور ضلعی بدری کے احکامات جاری ہوتے ہیں جہیں فوت ہوئے بھی دہائیاں گزر چکی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین مجلس وحدت مسلمین علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کراچی کی مسجد و امام بارگاہ خیر العمل انچولی میں منعقدہ عزاداری کانفرنس سے خطاب میں کیا۔ کانفرنس میں صوبائی صدر علامہ باقر عباس زیدی، ڈویژن صدر علامہ صادق جعفری، علامہ مختار امامی، شبر رضا، عباس حیدر، علامہ حیات عباس، علامہ ملک عباس، علامہ مبشر حسن، رضی حیدر، زین رضا، احسن عباس سمیت دیگر ملی تنظیموں جعفریہ الائنس، مرکزی تنظیم عزاداری، تنظیم عزاء، ماتمی انجمنوں اور مساجد امام بارگاہ کے ٹرسٹیز حضرات موجود تھے۔

کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سبیلوں کے اہتمام پر ایف آئی آر، جلوس و مجلس کے انعقاد پر ایف آئی آر، جلوس میں چند منٹ کی تاخیر کے سبب بانی کے خلاف مقدمے کا اندراج یہ سب یزیدی اور شمری طرز حکومت کے انداز ہیں، عزاداری ہماری آئینی، قانونی اور شہری حق ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا، وفاقی و صوبائی حکومتیں عزاداران امام حسینؑ کی ہر ممکن سہولیات کو یقینی بنائے، جلوس و مجالس کے روٹس پر صفائی ستھرائی اور لائٹنگ کے موثر انتظامات کی ضرورت ہے، نیپرا کے الیکٹرک اور دیگر بجلی فراہم کرنے والے اداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ محرم الحرام میں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ یقینی بنائیں، اس محرم میں پہلے سے زیادہ مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند ہوگی، شیعہ سنی مل کر نواسہ رسولؑ کی یاد منائیں گے، یہ ہماری مشترکہ میراث ہے اور ہمیں اس کا تحفظ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا خطہ میں ایرانی حکومت و شہداء نے جرائت اور جواں مردی کی جو مثال قائم کی ہے اس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی، انہیں طویل استقامت کے نتیجے میں ظالم اسرائیل کے سامنے سر نا جھکا کر خود کو بے مثال بنا دیا ہے، خطہ میں موجود تمام اسلامی ممالک اور عالم انسانیت صہیونی جرائم کے خلاف متحد ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سال کا محرم بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے، امام علی ؑ کہتے ہیں جو اپنے زمانے کو پہچان لے وہ محفوظ ہوجاتا ہے اس دور کو پہچاننے کی ضروری ہے، ہمیں دیکھنا ہوگا کہ معرکہء حق و باطل میں آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ غاصب اسرائیل کے مقابلے پر ملت ایران و رہبر معظم کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، غاصب اسرائیل سے جنگ حق و باطل کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قیادت سب سے اہم معاملہ ہے، دوسرا مسئلہ منشور ہے جو اہلیبیت ؑ نے ہمیں بیان کیا ہے، تیسرا عوام کا ساتھ دینا ضروری ہے، سب سے مشکل امتحان سیاسی میدان ہے، ظالموں کی سیاست محض اقتدار کے لئے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو پاور پولیٹکس نے برباد کیا، عزاداری کو کوئی ختم نہیں کرسکتا ہے، امام حسینؑ کا سجدے میں سر کٹانا خدا کے ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے، پنجاب حکومت نے مشی کو روکنے کی حماقت کی تو سینوں پر گولیاں کھاکر جلوسوں میں شرکت کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا نے کہا کہ ہونے کی کے خلاف

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک