اداکارہ اسما عباس اسکن ٹریٹمنٹ کے بعد مشکل میں پڑگئیں
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
پاکستان شوبز کی سینئر اداکارہ اسما عباس نے حال ہی میں اپنی جلد سے متعلق ایک ناخوشگوار تجربے کا انکشاف کیا ہے۔
ایک حالیہ وی لاگ میں اداکارہ اسما عباس نے انکشاف کیا کہ ان کے چہرے کی جھائیوں کے علاج کے دوران ایک ردِ عمل کے باعث ان کی جلد شدید متاثر ہوئی ہے۔
اسما عباس کے مطابق ان کے چہرے پر وراثتی فریکلز (جھائیاں) موجود تھیں جنہیں کم کرنے کے لیے انہوں نے ایک ڈاکٹر کے مشورے پر کاؤٹری (Cauterization) کا طریقہ اختیار کیا۔
اس علاج میں جلد کی اوپری سطح کو مخصوص طریقے سے جلایا جاتا ہے تاکہ جلد پر موجود کالے دھبے یا نشانات کو ہلکا کیا جا سکے۔ اداکارہ نے بتایا کہ ابتدائی طور پر سب کچھ معمول کے مطابق تھا، تاہم اسی رات انہوں نے ایک فیس ماسک استعمال کیا جس سے ان کی جلد پر شدید الرجی ہو گئی۔
https://www.
اداکارہ نے بتایا کہ ماسک کے استعمال کے بعد ان کے چہرے پر سرخی، دھبے اور خارش ہونے لگی اور ان کا چہرہ الرجی کا شکار ہوگیا جس نے ان کے چہرے کو شدید متاثر کردیا۔
اسما عباس نے بتایا کہ وہ اس وقت الرجی دور کرنے کیلئے دوا استعمال کر رہی ہیں اور ڈاکٹرز نے جلد میں بہتری کے لیے وقت دینے کا مشورہ دیا ہے۔
اسما عباس نے مداحوں سے صحتیابی کی دعا کی اپیل کی اور کہا کہ وہ اپنی کہانی اس لیے بیان کر رہی ہیں تاکہ دوسروں کو کسی بھی قسم کے اسکن ٹریٹمنٹ کے بعد احتیاط کی اہمیت کا اندازہ ہو سکے۔
TagsShowbiz News Urdu
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ان کے چہرے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔
عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان