کچھ اسرائیلی ذرائع نے اسرائیلی رژیم کے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کا اپنے اہداف پر کامیاب حملہ کرنے کی شرح جو کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہوئی ہے، وعدۂ صادق 1 اور 2 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کچھ اسرائیلی ذرائع نے اسرائیلی رژیم کے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے حوالے سے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کا اپنے اہداف پر کامیاب حملہ کرنے کی شرح جو کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ہوئی ہے، وعدۂ صادق 1 اور 2 کے مقابلے میں تین گنا بڑھ گئی ہے۔ ان ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً ہر دو ایرانی میزائلوں میں سے ایک میزائل اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے، جو کہ ایک اعلیٰ شرح ہے۔ جبکہ اس سے پہلے اسرائیلی فوجی اہلکاروں کا دعویٰ تھا کہ وہ 90 فیصد ایرانی میزائلوں کو روک لیتے ہیں۔ اس کے باوجود، آج صبح کا واقعہ ایک اور فیصلہ کن واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ کیونکہ اس بار صہیونی میڈیا اور اہلکاروں نے اعتراف کیا ہے کہ ایران نے صرف ایک میزائل فائر کیا اور وہ ایک میزائل بھی بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہم ہدف، جو کہ ایک اسرائیلی فوجی و سیکیورٹی مرکز تھا، پر جا لگا۔ ایرانی میزائلوں کی اعلیٰ کارکردگی اس وقت سامنے آئی ہے جب صہیونیوں نے امریکی اور اسرائیلی دفاعی نظام سمیت تمام وسائل استعمال کیے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایرانی میزائلوں

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان