نریندر مودی کی چین پالیسی پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے، کانگریس
اشاعت کی تاریخ: 20th, June 2025 GMT
پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مودی اس بار مانسون اجلاس میں اس پر رضامند ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے چین کو دی گئی "کلین چٹ" کی پانچویں برسی کے موقع پر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں چین سے متعلق تفصیلی بحث کا مطالبہ دہرایا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مودی اس بار مانسون اجلاس میں اس پر رضامند ہوں گے۔ جے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں 15 جون 2020ء کو مودی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "نہ کوئی ہماری سرحد میں گھسا ہے، نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے"۔ یہ بیان گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ کے صرف چار دن بعد سامنے آیا تھا، جس میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ بعد میں 21 اکتوبر 2024ء کو ایک سمجھوتے پر ختم ہوا لیکن اس کے اثرات اب تک جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری اقتصادی وابستگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ہمارے لئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ٹیلی کام، دوا سازی اور الیکٹرانکس جیسے اہم شعبے چین سے درآمدات پر بری طرح انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے 2024ء 2025ء میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99.
جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "آپریشن سندور" کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائیوں میں چین نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ہماری شمالی اور مغربی سرحدوں پر ایک ساتھ چیلنج درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ طاقت بننے کے باعث سکیورٹی اور اقتصادی لحاظ سے بڑے خطرات پیدا ہوگئے ہیں، جن پر قومی سطح پر اتفاقِ رائے اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ آخر میں کانگریس نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں چین سے متعلق امور پر تفصیلی بحث کے لئے رضامندی دے، تاکہ ملک کو اعتماد میں لیا جا سکے اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میں چین
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :