پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مودی اس بار مانسون اجلاس میں اس پر رضامند ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ انڈین نیشنل کانگریس نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے چین کو دی گئی "کلین چٹ" کی پانچویں برسی کے موقع پر ایک بار پھر پارلیمنٹ میں چین سے متعلق تفصیلی بحث کا مطالبہ دہرایا ہے۔ پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ وہ گزشتہ پانچ برسوں سے مسلسل اس بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں اور امید ہے کہ مودی اس بار مانسون اجلاس میں اس پر رضامند ہوں گے۔ جے رام رمیش نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں 15 جون 2020ء کو مودی کے اس بیان کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "نہ کوئی ہماری سرحد میں گھسا ہے، نہ ہی کوئی گھسا ہوا ہے"۔ یہ بیان گلوان وادی میں چینی فوج کے ساتھ جھڑپ کے صرف چار دن بعد سامنے آیا تھا، جس میں بھارت کے 20 فوجی مارے گئے تھے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ بعد میں 21 اکتوبر 2024ء کو ایک سمجھوتے پر ختم ہوا لیکن اس کے اثرات اب تک جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہماری اقتصادی وابستگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور یہ ہمارے لئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔

جے رام رمیش نے الزام لگایا کہ ٹیلی کام، دوا سازی اور الیکٹرانکس جیسے اہم شعبے چین سے درآمدات پر بری طرح انحصار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے 2024ء 2025ء میں چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99.

2 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ چین کو بھارت کی برآمدات 2013ء 2014ء کے مقابلے میں کم ہوگئی ہیں، جبکہ روپے کی قدر کمزور ہونے سے برآمدات کو فائدہ ہونا چاہئے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ کانگریس لیڈر نے وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ایک بیان پر بھی تنقید کی، جس میں انہوں نے کہا تھا "چین بڑی معیشت ہیں، میں کیا کر سکتا ہوں، کیا ایک چھوٹی معیشت بڑی معیشت سے لڑے گی"۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہی ذہنیت قومی مفاد کے آگے سر تسلیم خم کرنے کے مترادف ہے۔

جے رام رمیش نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ "آپریشن سندور" کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائیوں میں چین نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ہماری شمالی اور مغربی سرحدوں پر ایک ساتھ چیلنج درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اور دنیا کی سب سے بڑی مینوفیکچرنگ طاقت بننے کے باعث سکیورٹی اور اقتصادی لحاظ سے بڑے خطرات پیدا ہوگئے ہیں، جن پر قومی سطح پر اتفاقِ رائے اور اجتماعی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ آخر میں کانگریس نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ آئندہ پارلیمانی اجلاس میں چین سے متعلق امور پر تفصیلی بحث کے لئے رضامندی دے، تاکہ ملک کو اعتماد میں لیا جا سکے اور مستقبل کی حکمت عملی تیار کی جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ میں چین

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پانچ اگست کا جلسہ فیصلہ کن ہوگا، آئندہ لائحہ عمل قوم کے سامنے رکھا جائے گا: سہیل آفریدی
  • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین مستعفی، اسپیکر پارلیمنٹ قائم مقام ہونگے
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی