سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی 69ویں سالگرہ(کل) منائی جائیگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
مکوآنہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 21 جون2025ء)سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی 69ویں سالگرہ(کل)22جون کو منائی جائے گی اس سلسلے میں فیصل آباد سمیت دیگر علاقوں میں منعقدہ سالگرہ تقریبات میں مخدوم شاہ محمود قریشی کی درازی عمر کیلئے دعائیں مانگی جائیں گی۔جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے اہم سیاسی و مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے مخدوم شاہ محمود قریشی22جون 1956ء کو پیدا ہوئے وہ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں پنجاب کے گورنر مخدوم سجاد حسین قریشی کے فرزند ہیں۔
مخدوم شاہ محمود قریشی نی1985ء سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیاوہ ملتان سے ایم پی اے منتخب ہو کر وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف کی صوبائی کابینہ میںبطور وزیر خزانہ شامل ہو گئے۔(جاری ہے)
1993ء کے عام انتخابات کے موقع پر وہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایم این اے منتخب ہوئے اور وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کابینہ میں وزیر زراعت بنی2001ء میں وہ ملتان کے ضلع ناظم بنے فروری2008ء میں وہ جہانیاں سے ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے اور بعدازاں ملتان سے ایم این اے بنے اور مارچ2008ء میں وہ وزیر خارجہ بن گئیوہ9فروری2011ء وزیر خارجہ رہے نومبر 2011ء میں مخدوم شاہ محمود قریشی نے پیپلز پارٹی اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا وہ 27نومبر 2011کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے،وہ سابق وزیر خارجہ ہیں مخدوم شاہ محمود قریشی ملتان میں درگاہ عالیہ بہائوالدین زکریا اور حضرت شاہ رکن عالم ؒ کے سجادہ نشین اور روحانی پیشوا بھی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مخدوم شاہ محمود قریشی
پڑھیں:
داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
اوقاف بورڈ نے زائرین کے نذرانوں میں کروڑوں روپے کی کرپشن کرنے کے الزام میں داتا دربار کے 5 سینئر افسران کو سزا سنادی۔
ملزمان میں سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد، سابق مینجر طاہر مقصود، سابق اسٹینو گرافر ثاقب نسیم سمیت دیگر ملازمین شامل ہیں۔
محکمہ اوقاف بورڈ کی ہدایات کی روشنی میں مجاز اتھارٹی نے انکوائری کے بعد سابق ایڈمنسٹریٹر داتا دربار شیخ جمیل احمد کو انکے اصل مستقل عہدے سے 5 سال کی مدت کے لئے کم درجے کے عہدے (BS-15) اور پے اسکیل پر تنزلی کا حکم دیا ہے۔
شیخ جمیل احمد کی 5 سال کی پچھلی سروس بھی ضبط کر لی گئی ہے، انہیں 9,265,800 روپے ادا کرنے ہوں گے جبکہ انکے سروس ریکارڈ میں منفی اندراج بھی کیا جائے گا، مستقبل میں اُنہیں کسی بھی کیش ہینڈلنگ آفس یا فیلڈ ریونیو پوسٹ پر تعینات کرنے پر مستقل پابندی عائد کردی گئی ہے۔
اسی طرح سابق مینیجر داتا دربار طاہر مقصود کو سرکاری ملازمت سے برطرفی کی سزا دی گئی ہے، اسکے ساتھ 11,324,867 روپے (ان کا 55 فیصد واجب الادا حصہ) کی انفرادی مالیاتی ریکوری اور مستقبل میں فیلڈ پوسٹنگز پر مستقل پابندی عائد کی گئی ہے۔
سابق اسٹینو گرافر ایڈمنسٹریٹر آفس ثاقب نسیم کو 4 سال کی مدت کےلئے پچھلی سروس ضبط کرنے کی سزا دی گئی ہے اور ان پر انتظامی پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں کسی بھی خفیہ برانچ ایڈمنسٹریٹر دفاتر اور حساس دفاتر یا سی سی ٹی وی سیکیورٹی سے متعلقہ سائنمنٹس پر تعینات کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
سابق کیئر ٹیکر نور حسین کو تین سال کی مخصوص مدت کےلئے سالانہ ترقیاں روکنے کی سزا دی گئی ہے اور انہیں داتا دربار یا کسی بھی بڑے کیش جنریٹنگ مزار پر مستقبل میں تعینات کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
سابق کیئر ٹیکر محمد شریف اگرچہ اس مخصوص انکوائری رپورٹ کے الزامات سے بری ہو گئے ہیں لیکن مزار پر ایک زائر سے نقدی چوری کرنے کی وائرل ویڈیو کلپ سامنے آنے کے بعد انکے خلاف فوری طور پر علیحدہ اور آزادانہ تادیبی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، انہیں داتا دربار یا کسی بھی دوسرے بڑے مزار پر تعیناتی سے مستقل طور پر روک دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سیکرٹری و چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مقدس مذہبی اداروں کے اندرکرپشن عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے، کرپشن کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینک دیا جائے گا۔