وزیراعظم کی پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کیلیے بحری جہاز لینے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (اے پی پی)وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کے لیے لیز پر بحری جہاز لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ہفتے میں پی این ایس سی کا بزنس پلان پیش کیا جائے جس میں قومی خزانے سے سالانہ 4 بلین ڈالر کا بوجھ ختم کرنے کا لائحہ عمل شامل ہو۔ جمعہ کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے امور پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے پی این ایس سی کے بیڑے میں اضافے کے لیے لیز پر بحری جہاز لینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ پی این ایس سی کے بیڑے میں بحری جہاز کم ہونے کی وجہ سے سمندر کے راستے تجارت پر قومی خزانے سے سالانہ 4 بلین ڈالر کا قیمتی زر مبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ دو ہفتے کے اندر پی این ایس سی کا بزنس پلان پیش کیا جائے جس میں قومی خزانے سے سالانہ 4 بلین ڈالر کا بوجھ ختم کرنے کا لائحہ عمل شامل ہو۔ وزیر اعظم کو پی این ایس سی کی کارکردگی پر بریفنگ میں بتایا گیا کہ ادارے کے پاس مختلف نوعیت کے دس بحری جہاز ہیں، جو کہ 724,643 ٹن کارگو لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری اور پی این ایس سی کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پی این ایس سی کے بیڑے میں بحری جہاز
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔