وزیر خزانہ کی سولر پینلز ٹیکس کے اطلاق سے قبل قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کو وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سولر پینلز ٹیکس کے اطلاق سے پہلے قیمتوں میں اضافہ اور بلیک کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں گے۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ 2025-26 بحث میں حصہ لینے والے تمام سینیٹرز کا شکریہ ادا کرتا ہوں، قائمہ کمیٹی خزانہ نے بجٹ پر بہت کام کیا اور بجٹ کا مکمل جائزہ لیا، بجٹ تجاویز کو بہتر بنانے میں سینیٹرز نے معاونت کی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے مالی سال میں کوئی منی بجٹ نہیں لائے، مالی نظم میں رہے خسارہ میں کمی لائے زرمبادلہ بڑھایا، کم اور متوسط طبقہ کا اہم کردار ہے، تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکسز میں کمی لائے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ تنخواہ والے طبقہ پر انکم ٹیکس اڑھائی فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد پنشنز میں 7 فیصد اضافہ کیا، درآمد شدہ سولر پینلز کے پرزہ جات پر سیلز ٹیکس 18 فیصد کم کرکے 10 فیصد کیا۔
انہوں نے کہا کہ مقامی سولز پینلز انڈسٹری کے فروغ کےلئے کیا گیا، اس ٹیکس کا اطلاق 46 فیصد درآمدی سولر پینلز پرزہ جات پر ہوگا، امپورٹڈ سولر پینلز کی قیمت میں 4.
ان کا کہنا تھا کہ سولر پینلز ٹیکس کے اطلاق سے پہلے قیمتوں میں اضافہ اور بلیک کرنے والوں کے سخت کاروائی کرینگے، صوبائی حکومتوں سے مل کر ان کے خلاف کاروائی کرینگے، سولر پینلز پر ٹیکسز کا اطلاق یکم جولائی سے ہوگا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ بی آئی آئی ایس کے تحت مالی معاونت کا دائرہ بڑھا رہے ہیں، سینیٹ کی پچھلے سال کی طرح 50 فیصد سے زائد سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنائیں گے، جامع اور پائیدار ترقی ہمارا ہدف اور منزل ہے۔
انہوں نے کہا کہ فرٹیلائزر اور پیسٹی سائیڈ کےلئے سیلز ٹیکس نکالا گیا، ایگری کلچر گریجویٹس کو چین بھجوا رہے ہیں، نئی تنکیکس سکھانے کےلیے بھجوا رہے ہیں، وزیر اعظم کا زراعت پر خصوصی فوکس ہے، ہم چاہتے ہیں زراعت پاکستانی معیشت کا مرکز رہے اور ترقی کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
سٹی 42: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، صنعتی ترقی اور معیشت کی بہتری کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف شعبوں میں اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر غور کیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت و حرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اور دیرپا پالیسی اقدامات کو ترجیح دی جائے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
وزیراعظم نے کہا کہ صنعت، تجارت اور معیشت کے مختلف شعبوں میں اصلاحات عوامی فلاح اور طویل المدتی معاشی استحکام پر مرکوز ہونی چاہئیں۔ انہوں نے متبادل توانائی کے ذرائع کے فروغ اور مستقبل کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے مؤثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ جدید ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں متعارف کرانے کے لیے وزارتوں اور ماہرین کے درمیان مؤثر مشاورت یقینی بنائی جائے۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر توانائی اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔