سینیٹ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کی بجٹ سفارشات کثرت رائے سے منظور کرلیں
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
سینیٹ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کی بجٹ سفارشات کثرت رائے سے منظور کرلیں WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )سینیٹ نے بجٹ سفارشات کثرت رائے سے منظورکر لیں۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا فنانس کمیٹی کی پچاس فیصد سفارشات کو فنانس بل کا حصہ بنائیں گے۔ افراط زر پر قابو پا لیا، انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد کر دی، سولر پینلز کا ٹیکس دس فیصد کر دیا۔ ماضی کی نسبت اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان کی زیرصدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں بجٹ 2025-26 سے متعلق اہم بحث دیکھنے میں آئی۔
سینیٹ اراکین نے بجٹ سے متعلق تجاویز کی رپورٹ سینیٹ میں پیش کی۔ 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کل 204 سفارشات پیش کی گئی ہیں۔اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ فنانس کمیٹی کو تجاویز دی گئیں لیکن اس بات کی وضاحت نہیں دی گئی کہ ان میں سے کون سی تجاویز شامل کی گئیں اور کن پر اعتراضات سامنے آئے۔شبلی فراز نے زور دیا کہ فنانس کمیٹی کا چیئرمین اپوزیشن سے ہونا چاہیے تھا اور بجٹ میں عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم نہیں کیے اور معیشت کو قرضوں کے سہارے چلایا جا رہا ہے، جو کہ پائیدار بنیاد نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کمیٹی کی کارروائی پر عدم شفافیت کو لات مارنے کے مترادف قرار دیا۔اس موقع پر قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے سفارشات پر مشتمل رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام جماعتوں نے سفارشات کی تیاری میں مثبت کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کئی تجاویز بشمول سولر پینلز، اسٹیشنری آئٹمز اور اسٹیل سیکٹر پر ٹیکسوں کو مسترد کیا گیا، جبکہ ہومیوپیتھک مصنوعات پر سیلز ٹیکس صفر کرنے کی سفارش دی گئی۔ سلیم مانڈوی والا نے بتایا کہ حکومت نے کمیٹی کی 52 فیصد سفارشات کو تسلیم کر لیا ہے۔
وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے سینیٹ میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی تجاویز پر شکر گزارہوں، بجٹ میں عوامی فلاح کیلئے کئی اقدامات کا اعلان کیا، سینیٹ میں دی گئی بجٹ تجاویز ہمارے لیے اہم ہیں۔محمداورنگزیب نے کہا کہ ہم نے افراط زر پر قابو پایا، ہم نے انکم ٹیکس کی شرح کم کر کے ایک فیصد کر دی ہے، پاکستان کی معیشت کیلئے کئی اہم اقدامات کا اعلان کیا، سولر پینلز پر ٹیکس میں کمی کردی گئی ہے، سولر پینلز کا ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 10 فیصد کر دیا، سولر پینل 10 فیصد ٹیکس کا اطلاق 46 فیصد درآمدی پرزہ جات پر ہوگا۔ وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ مالی سال میں ماضی کی نسبت اخراجات میں معمولی اضافہ ہوا، تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں کمی کی تجویزہے، تنخواہ دار طبقے کی آمدنی میں اضافہ ہوگا، سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ ہوا، ذخیرہ اندوزوں کو سختی سے متنبہ کرتا ہوں کہ وہ عوامی استحصال نہ کریں۔سینیٹرعلی ظفر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ تمام اراکین کو فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ پڑھ کر حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کر سکیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب رپورٹ دیکھی ہی نہیں گئی تو منظوری کیسے دی جا سکتی ہے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے حکومت کی جانب سے تجاویز تسلیم کرنے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والی قوم ہیں۔ تاہم، سینیٹر دوست محمد خان نے فاٹا کے مسائل کو نظرانداز کیے جانے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت فاٹا کی ٹیکس استثنی کو ختم کر رہی ہے، جو قابلِ افسوس ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمودی سرکار کی ایک اور ناکامی، خودساختہ جنگی کارنامے عالمی سطح پر مسترد مودی سرکار کی ایک اور ناکامی، خودساختہ جنگی کارنامے عالمی سطح پر مسترد اسرائیل کے پاس ایران کی جوہری طاقت مٹانے کی صلاحیت نہیں،ٹرمپ کا انکشاف مسلم ممالک اسرائیل پر موثر پابندیوں کے نفاذ کیلئے اپنی کوششیں تیز کریں، رجب طیب اردوان جلاو گھیراو کیس، بیرسٹر گوہر، عمر ایوب، علی بخاری اور شعیب شاہین بری قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی کفایت شعاری، 3ارب روپے قومی خزانے میں واپس بھارتی دعوے مسترد، پاکستان نے جنگ شروع کی اور نہ ہی جنگی بندی کی درخواست، ترجمان دفتر خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: قائمہ کمیٹی
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔