چیئرمین او آئی سی کا منصب 3سال کے لیے ترکیہ کو مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
چیئرمین او آئی سی کا منصب 3سال کے لیے ترکیہ کو مل گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 21 June, 2025 سب نیوز
استنبول (آئی پی ایس )اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے دو روزہ اجلاس کے دوران ترکیہ کو تنظیم کی تین سالہ چیئرمین شپ سونپ دی گئی، جبکہ نئے چیئرمین ترک وزیر خارجہ حقان فدان نے افتتاحی خطاب میں ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی اور خطے میں امن کے لیے امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا۔
حقان فدان نے کہا کہ ہم دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اسرائیل اس وقت ایران پر حملہ آور ہے، جبکہ غزہ سے یمن اور لبنان تک جنگ کا سامنا ہے۔ ہمیں اسرائیلی جارحیت کو روکنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل مشرق وسطی میں عدم استحکام کا بنیادی سبب بن چکا ہے اور موجودہ بحران امت مسلمہ کے لیے ایک امتحان ہے۔ حقان فدان نے اجلاس کو ایران-اسرائیل کشیدگی پر غور کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ہمیں اختلافات بھلا کر متحد ہونا ہوگا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگوادر، کوئٹہ، راولپنڈی سمیت ملک کے مزید 7اضلاع میں پولیو وائرس کی تصدیق اسلام آباد ہائی کورٹ کا آئندہ ہفتے کا ججز ڈیوٹی روسٹر جاری،6ڈویژن اور11سنگل بینچ دستیاب ہونگے محرم الحرام، پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ، 9 اور 10 محرم کے لیے ڈبل سواری پر پابندی عائد بانی کی مشاورت کے بغیر خیبر پختونخوا کا بجٹ منظور نہیں ہوگا، بیرسٹر سیف بھارتی وزیر داخلہ کا پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ بحال کرنے سے انکار سینیٹ نے قائمہ کمیٹی خزانہ کی بجٹ سفارشات کثرت رائے سے منظور کرلیں مودی سرکار کی ایک اور ناکامی، خودساختہ جنگی کارنامے عالمی سطح پر مستردCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔