اقوام متحدہ :اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کی درخواست پر اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعات کے حوالے سے ہنگامی اجلاس کا ایک بار پھر  انعقاد کیا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مختلف فریقوں سے ” امن کو موقع دینے ” کی اپیل کی اور متعدد ممالک کے مندوبین نے فوری طور پر فائر بندی اور ایران کے ایٹمی مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنے کی اپیل کی۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب عامر سعید اروانی نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیاں جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جوہری توانائی ایجنسی سے جلد ہی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ حملوں میں شامل ہو تو ایران “جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی خلاف ورزی کر  سکتا ہے۔اقوام متحدہ میں تعینات چینی مندوب فو چھونگ نے سلامتی کونسل کی مشرق وسطی کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کوخبردار دیا کہ پرامن مذاکرات کو عمل میں لایا جائے اور تنازعات کو حل کیا جائے۔ سب سے پہلے فوری جنگ بندی کی جائے ، دوسرا ، عام شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جائے، تیسرا، مذاکراتی عمل بحال کیا جائے ۔چوتھا، عالمی برادری کو امن قائم کرنے کی مشترکہ  کوشش کرنی چاہئے۔مقامی وقت کے مطابق 20 تاریخ کو ترکیہ کے شہر استنبول میں عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا۔ اردن کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ  صفادی نے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیلی حملے پر عرب ممالک کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے صفادی نے کہا کہ پہلے اس حملے کو روکنا ہوگا اور پھر ایرانی جوہری مسئلے کے سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کرنا ہوگا۔عراق کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ فواد حسین نے اجلاس میں کہا کہ عرب دنیا کو بڑے چیلنجوں کا سامنا ہے اور اسے ایک پختہ اجتماعی موقف اپنانا ہوگا۔ مزید برآں،فواد حسین نے  ملکی خود مختاری اور عراقی فضائی حدود کی غیر ملکی خلاف ورزیوں  کی سخت مخالفت کا اعادہ کیا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: سلامتی کونسل اقوام متحدہ سلامتی کو ایران کے ممالک کے کہا کہ

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • : نائب وزیرعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی شنگھائی تعاون تنظیم وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • اقوام متحدہ کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ 4 خواتین اور 2 مرد دوڑ میں شامل
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ