وفاق کی وزارتوں اور ڈویژنز کے بجٹ پر کٹ لگایا جائے، اپوزیشن جماعتوں کی سفارشات
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اپوزیشن نے سب سے زیادہ کٹوتی کی تحاریک توانائی ڈویژن کے لیے جمع کرائی ہیں، توانائی ڈویژن کے بجٹ میں کٹوتی کی 202 تحاریک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کی گئی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ اپوزیشن جماعتوں نے وفاقی بجٹ 26-2025ء میں وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ پر کٹ لگانے کی سفارش کردی اور اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں سیکڑوں تحاریک جمع کرادی گئی ہیں۔ اپوزیشن نے 8 وزارتوں اور ڈویژنوں کے بجٹ پر کٹ لگانے کی تحاریک جمع کرائی ہیں اور اب تک مجموعی طور پر 835 کٹوتی کی تحاریک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرادی گئی ہیں۔قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اپوزیشن نے سب سے زیادہ کٹوتی کی تحاریک توانائی ڈویژن کے لیے جمع کرائی ہیں، توانائی ڈویژن کے بجٹ میں کٹوتی کی 202 تحاریک قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کی گئی ہیں۔
اسی طرح دفاع پر 22، کابینہ ڈویژن بجٹ پر 112، داخلہ ڈویژن پر 168، انسانی حقوق کے بجٹ میں 104، کامرس ڈویژن بجٹ میں کٹوتی کی 69، اور خزانہ ڈویژن کے بجٹ میں کٹوتی کے لیے 60 تحاریک جمع ہو چکی ہیں۔ اپوزیشن نے نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے بجٹ میں کٹوتی کی 98 تحاریک جمع کرا دی ہیں اور اپوزیشن کی جانب سے وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالبات زر کی منظوری کے دوران کٹوتی کی تحاریک پیش کی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں توانائی ڈویژن کے کے بجٹ میں کٹوتی بجٹ میں کٹوتی کی وزارتوں اور اپوزیشن نے تحاریک جمع گئی ہیں
پڑھیں:
پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہیں، پاکستانی پرچم بردار جہازوں پر کارروائی قومی سلامتی کا خطرہ تصور ہوگی، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔
تفصیلات کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ حوثیوں نے سعودی کمرشل جہازوں کو دھمکیاں دی، حوثیوں کی جانب سے بحری جہازوں پر حملوں کے اطلاعات بھی ہیں، پاکستان حوثیوں کے ان اقدامات کی مذمت کرتا ہے۔سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو نشانہ بنانے یا اس کے خلاف دھمکیاں دینا ناقابلِ قبول ہے، سعودی عرب کے ساتھ جائز تجارتی سرگرمیوں میں مصروف بحری جہازوں کو دھمکیاں دینے پر پاکستان کو تشویش ہے۔ پاکستان کو سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کی مسلسل دھمکیوں پر شدید تشویش ہے، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے اعلانات کی شدید مذمت کرتے ہیں، مشرق وسطیٰ کے تنازع میں سعودی عرب کو گھسیٹنے کی کوششوں پر تشویش ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
’’دنیا نیوز ‘‘ کے مطابق دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائے گا، پاکستان کے سمندری مفادات کے خلاف جارحانہ کاروائی کو خودمختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ تصور کیا جائے گا۔اقوامِ متحدہ کے قانون کے مطابق پاکستان اپنے سمندری اثاثوں کی دفاع کے لیے طاقت کے استعمال کا حق محفوظ رکھتا ہے، پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔پاکستان نے تمام فریقوں پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے، پاکستان کو مشرق وسطیٰ میں کشیدگی پر تشویش ہے، پاکستان مذاکرات اور سفارتکاری کی کوشش کی حمایت رکھے گا، ایران، امریکہ مذاکرات کے لیے پرامید ہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
انہوں نے بتایا کہ ایرانی وزیر داخلہ نے وزیراعظم، نائب وزیراعظم، فیلڈ مارشل سے ملاقاتیں کی ہیں، پاکستان کی سفارتی کوشش جاری ہے، بات چیت ہی کشیدگی کا واحد حل ہے، تجارتی جہازوں کو دھمکیاں علاقائی امن، عالمی تجارت کیلئے سنگین خطرہ ہیں۔ نائب وزیر اعظم نے آسیان ریجنل فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے وزرا ئے خارجہ سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، ملاقاتوں میں مشرق و سطیٰ میں قیام امن، کشیدگی کے خاتمے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے بدستور موجود ہیں، افغان طالبان کی طرف سے دہشتگردوں کی پشت پناہی سے علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہے۔ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے واقعا ت میں شہید ہو چکے ہیں، عالمی برادری دہشتگردوں کی پشت پناہی پر افغان طالبان کو جواب دہ ٹھہرائے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
یورپی یونین کی رپورٹ پر دفتر خارجہ نے ردعمل دیا کہ پاکستان کے لیے جاری کردہ جی ایس پی رپورٹ فائنل ہے، پاکستان 27 کنونشن پر عمل درآمد کررہا ہے، جی ایس پی پلس درجہ پاکستان کی معیشت کے لیے فائدہ مند رہا ہے، ہم یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، پاکستان انٹرنیشنل کنونشن پر عملدرآمد کرتا رہے گا۔