UrduPoint:
2026-06-02@23:08:45 GMT
لاہور لیڈز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم بھٹی کا ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے اعزاز میں عشائیہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, June 2025 GMT
لاہور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 21 جون 2025ء ) لیڈز یونیورسٹی کے وائس چانسلر ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر ندیم بھٹی نے ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عدنان لودھی اور انکی کابینہ کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکثر ندیم بھٹی کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے تعلیم کا شعبہ زبوں حالی کا ہمیشہ سے شکار رہا ہے ۔
غربت اور مہنگائی نے جہاں تعلیم کے دروازے غریب اور متوسط طبقے کے لیے بند کیے ہیں وہیں آجکا نوجوان مایوسی کا شکار نظر آتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے معاشرے میں امید کے پیغام کو عام کیا جائے تا کہ مایوسی کے عنصرکا خاتمہ ہو ۔ لیڈز یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کو اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ انکی ذہنی اور فکری رہنمائی بھی کی جاتی ہے ۔(جاری ہے)
ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر بھی آگے بڑھے اور نوجوانوں کو ڈگریوں کے ساتھ ساتھ ہنر کی تعلیم دی جائے تا کہ ملک میں بےروزگاری کا خاتمہ ہو سکے ۔
نوجوان ڈگریاں لیکر ملک چھوڑنے کی بجائے اپنے ملک میں باعزت روزگار کمانے کے قابل بن سکے ۔ ڈاکٹر ندیم بھٹی کا مزید کہنا تھا کہ جو قومیں ڈسپلن قائم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہیں ترقی اور کامیابی انکے قدم چومتی ہے ۔ نوجوان سیرت محمد عربی کا مطالعہ کریں جو ہر مسلمان کے لیے رول ماڈل ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے اور بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ غریب کا بچہ بھی اعلی تعلیم حاصل کرسکے ۔ ایجوکیشن رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عدنان لودھی کا کہنا تھا کہ شعبہ تعلیم میں بہتری کے لیے تعلیمی رپورٹرز ہمیشہ سے توانا آواز اٹھاتے رہے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس آواز کو سنا جائے ۔ لیڈز یونورسٹی اور تعلیمی رپورٹرز ملکر شعبہ تعلیم میں بہتری کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے تا کہ ملک میں تعلیم کا بول بالا ہو سکے ۔ عدنان لودھی اور تعلیمی رپورٹرز نے ڈاکٹر ندیم بھٹی کی تعلیمی خدمات کو سراہا اور مستقبل میں تعلیمی کانفرنسز اور شعبہ علوم ابلاغیات کے طلبہ اور صحافیوں کے مابین جوائینٹ سیشنز کے انعقاد سمیت دیگر پروگرامات کے انعقاد کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے لیے
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔