data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں مالی سال 2025/2026 کے بجٹ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالی مسائل جب بھی درپیش ہو تو ہر چیز کے لیے فائنانس کی جانب دیکھا جاتا ہے شہر میں کرائم کے خلاف حکمت عملی و لائحہ عمل کی ترتیب سے قبل حزب اختلاف سے مشاورت و تجاویز کے لیے ملاقاتیں جاری رہتی ہیں تاہم اسٹریٹ کرائم کی بیخ کنی پر حکومت کا فوکس ہے اور یہی وجہ ہے کہ کرائم ریٹ نیچے گیا ہے۔سندھ پولیس کے پورٹ فولیو میں 10 ہزار 409 ملین کا بجٹ ہے جس میں ترقیاتی اور غیر ترقیاتی سمیت جاری اسکیمز شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکولز میں منشیات کے استعمال سے متعلق شکایات موصول ہوئی ہیں اور ہمیں احساس ہے کہ ہم کسی اسکول کی بدنامی نہیں چاہتے لہٰذا اسکول انتظامیہ پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کو یقینی بنائے۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹریٹ کرائم میں گرفتار ہونے والے 70 فیصد ملزمان منشیات کے عادی ہیں تاہم یہ بھی رپورٹ ملی ہے کہ اس مذموم دھندے میں پولیس کے کچھ افسران بھی ملوث ہیں اور ہم پولیس میں موجود ان کالی بھیڑوں کے خلاف باقاعدہ نشاندھی کے تحت کارروائی کو یقینی بنارہے ہیں جبکہ اچھی شہرت کے حامل افسران کو ہی اہم ذمہ داریاں تفویض کی جارہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں 8 ہزار سے زائد منشیات فروش کو گرفتار کیا گیا ہے تاہم یہ تعداد ناکافی ہیں ہمیں منشیات کے بڑے ڈیلرز اور مچھلیوں پر ہاتھ ڈالنا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پولیس کے

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود