واشنگٹن ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 جون 2025ء ) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی پر پہلے سے کہیں زیادہ شدید طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ ایران کی 3 نیوکلئیر تنصیبات پر حملے کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے امریکی حملے کا جواب دیا تو اسے ایسی طاقت سے کچلا جائے گا جو آج کی رات سے کہیں زیادہ ہوگی، اگر ایران نے امریکہ کے خلاف کسی بھی قسم کی جوابی کارروائی کی تو ہم اس سے کہیں زیادہ شدید طاقت کا مظاہرہ کریں گے جو آج رات دیکھنے کو ملی۔

قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اسرائیلی فوج کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں اسرائیلی افواج کا شاندار کام کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں ان عظیم امریکی محب وطنوں کو مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے ان شاندار طیاروں کو آج رات اڑایا، یہ ایک ایسا آپریشن تھا جیسا دنیا نے کئی دہائیوں سے نہیں دیکھا، دنیا کی کوئی فوج ہم جیسا کچھ نہیں کر سکتی تھی، میں جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین ریزن کین اور ان تمام ذہین عسکری ماہرین کو مبارکباد دیتا ہوں جو اس حملے میں شامل تھے۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا ہے کہ ایران پر کیے گئے حملوں کا بنیادی مقصد ایرانی نیوکلیئر پروگرام کی تباہی اور جوہری خطرے کا خاتمہ تھا، ہمارا مقصد ایران کی یورینیم افزودگی کی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کرنا اور دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ریاستی معاون کے جوہری خطرے کو ختم کرنا تھا، اس حملے کے حوالے سے ان کے قریبی حلقے بھی تقسیم کا شکار تھے لیکن ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ چالیس برسوں سے ایران امریکہ مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگا رہا ہے، انہوں نے ہمارے لوگوں کو قتل کیا، ان کے بازو اور ٹانگیں بارودی سرنگوں سے اڑا دیں، ہم نے 1000 سے زائد امریکی کھوئے اور مشرق وسطیٰ و دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ان کی نفرت کی وجہ سے مارے گئے، کتنے ہی لوگ سلیمانی کے ہاتھوں مارے گئے، میں نے 2020ء میں اسے ہلاک کرنے کا حکم دیا تاکہ مستقبل کے حملوں کو روکا جا سکے، میں نے بہت پہلے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں یہ سب دوبارہ ہونے نہیں دوں گا اور اب یہ مزید نہیں چلے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سے کہیں زیادہ

پڑھیں:

ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

واشنگٹن:

مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔

یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران