سید عباس عراقچی کی کینیڈین وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
انیتا آنند سے اپنی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ تمام حکومتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمے داری ہے کہ وہ حالیہ جارحیت کو رکوائیں اور اسرائیل کو اس قانون شکنی پر جوابدہ ٹھہراتے ہوئے سزا دلوائیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ شب اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سیدعباس عراقچی" اور ان کی کنیڈین ہم منصب "انیتا آنند" کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ جس میں ایران کے خلاف مسلسل صیہونی جارحیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران سید عباس عراقچی نے اسرائیلی حملوں میں سائنس دانوں، دانشوروں و عسکری شخصیات سمیت نہتے شہریوں بالخصوص بچوں کی شہادتوں اور سول انفراسٹرکچر کو نشانہ بنائے جانے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام حکومتوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ذمے داری ہے کہ وہ حالیہ جارحیت کو رکوائیں اور اسرائیل کو اس قانون شکنی پر جوابدہ ٹھہراتے ہوئے سزا دلوائیں۔
سید عباس عراقچی نے صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ جارحانہ اقدام، ایران کے جوہری معاملات پر ہونے والی بات چیت کے درمیان کیا گیا جو تمام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی جارحیت کے اثرات کے بارے میں دنیا بھر کے ممالک سے اپنی سفارتی مشاورتوں کا ذکر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ موجودہ تنازعے میں امریکہ کی شمولیت اور حمایت ایک بڑی غلطی ہے، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر بھی جنگ پھیل سکتی ہے۔ دوسری جانب انیتا آنند نے خطے میں بگڑتی ہوئی سلامتی کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو صرف سفارتی زریعے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے جس میں وہ تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران کے انہوں نے کہا کہ
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔