UrduPoint:
2026-06-03@02:07:34 GMT

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو، امریکی حملوں کی مذمت

اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT

شہباز شریف کی ایرانی صدر سے گفتگو، امریکی حملوں کی مذمت

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 22 جون 2025ء) پاکستانی سربراہ حکومت نے ایرانی جوہری تنصیبات پر ان امریکی حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی میں ہے۔

اسی دوران پاکستانی دفتر خارجہ نے بھی ایک باضابطہ بیان میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کی جانے والی جارحیت بین الاقوامی قوانین، خاص طور پر اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایران-اسرائیل تنازعہ: مذاکرات بحال ہونا چاہییں، یورپی یونین

اسلام آباد میں ملکی دفتر خارجہ کے مطابق ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے، اور تنازعے کے تمام فریقوں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کو ختم کرنے اور تنازعے کے پرامن حل کے لیے بین الاقوامی قوانین اور مکالمت کے راستے کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

پاکستان میں شدید رد عمل

ایرانی ایٹمی تنصیبات پر امریکی حملوں کے حوالے سے پاکستان میں شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

عام پاکستانی شہریوں میں زیر بحث ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ مسلح تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا، تو پاکستان کو کن سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ایک درجن سے زائد پاکستانی شہریوں نے ملک میں مہنگائی میں مزید اضافے اور ممکنہ طور پر ایندھن کے بحران پر تشویش کا اظہار کیا۔

کئی رائے دہندگان نے پاکستانی جوہری تنصیبات کی سکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ کچھ کو خدشہ تھا کہ خطے میں موجودہ کشیدگی پھیل کر ایک علاقائی جنگ کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہے۔

ایران- اسرائیل تنازعہ: پاکستان کے لیے بڑھتے خطرات اور چیلنجز

ان حالات میں کئی پاکستانی شہریوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار بھی کیا کہ اب ایران پر حملہ کرنے والے امریکی صدر ٹرمپ کے لیے پاکستان کی جانب سے نوبل انعام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ایسے پاکستانیوں نے اس تجویز کو ناقابل فہم اور شرمناک قرار دیا، ''جسے واپس لیا جانا چاہیے۔‘‘ ’صورت حال مزید تشویش ناک‘

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے معروف تجزیہ کار امتیاز عالم نے اسے ’’بڑی بدقسمتی کی بات‘‘ قرار دیا کہ ''امریکی ایرانی بات چیت کے دوران اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا اور اب یورپی ایرانی بات چیت کے دوران امریکہ نے بھی ایران پر فضائی حملے کر کے صورت حال کو مزید تشویشناک‘‘ بنا دیا ہے۔

امتیاز عالم کے الفاظ میں، ''اصل معاملہ ایران کا نہیں بلکہ نئے مشرق وسطیٰ کا ہے۔ یہ حملے امریکہ نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیے ہیں۔ ان حالات میں امریکی صدر کو نوبل انعام دیے جانے کی سفارش کرنے والوں کو شرم آنا چاہیے اور یہ سفارش فی الفور واپس لی جانا چاہیے۔‘‘

پاکستان کی تقریباﹰ سبھی چھوٹی بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے بھی ایران پر امریکی حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی عام شہری ایران پر امریکی فضائی حملوں پر غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔

’پاکستانی جوہری تنصیبات کو کوئی خطرہ نہیں‘

معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کے بعد خطے کی صورتحال نازک تر ہو گئی ہے اور اگلے چند روز بہت اہم ہوں گے۔

ان کے بقول اگر ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا، تو تنازعہ پھیل کر باقاعدہ جنگ بھی بن سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی ایٹمی تنصیبات کو کوئی فوری خطرہ نہیں، تاہم آئندہ مہینوں اور برسوں میں علاقائی سیاست میں تغیرات کا بغور جائزہ مسلسل ناگزیر رہے گا۔

ایران میں عدم استحکام سے پاکستانی سرحد پر عسکریت پسندی میں اضافے کا خدشہ

دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سفارت کاری کو موقع نہ دینا انتہائی افسوسناک ہے۔

ان کے مطابق اگر اقوام متحدہ، بین الاقوامی قانون، اور این پی ٹی جیسے عالمی معاہدوں کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا، تو یہ صورتحال پاکستان سمیت پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم کیوں؟

اسلام آباد میں قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال نے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایرانی ایٹمی تنصیبات کو اکیلے نشانہ بنانے کی صلاحیت نہیں تھی، اس لیے اس نے امریکہ کی مدد حاصل کی۔

ان کے مطابق ایران پر امریکی فضائی حملے دراصل پہلے سے جاری جنگ کا تسلسل ہیں۔

''اب دیکھنا یہ باقی ہے کہ ایران جواباﹰ امریکہ کو نشانہ بناتا ہے یا صرف اسرائیل کو۔ دوسری طرف چین، روس اور دیگر عالمی طاقتوں کو بھی اس تنازعے کو وسیع تر جنگ بننے سے روکنے کی ہر ممکن کوششیں کرنا چاہییں۔‘‘

ادارت: مقبول ملک

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جوہری تنصیبات بین الاقوامی امریکی حملوں کرتے ہوئے پر امریکی ایران پر کا اظہار سے گفتگو ڈی ڈبلیو بات پر کے لیے

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت