واشنگٹن: امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ سفارتی عمل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے، امریکا کی ایران کے ساتھ نہیں بلکہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ جنگ ہے۔

امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کردیا ہے اور اب آنے والے سالوں میں ایران کے جوہری پروگرام کے مکمل خاتمے کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوابی حملہ کرتا ہے تو امریکا اس کے لیے تیار ہے، ایران میں زمینی فوج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران میں زمینی افواج اُتارنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔
جے ڈی وینس نے کہاکہ صدر ٹرمپ نے ایران کو بات چیت اور تعلقات بحال کرنے کا موقع دیا اور امریکا کو ایران کی طرف سے بالواسطہ پیغامات بھی ملے تھے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں چاہتا، ایران سےطویل المدتی مفاہمت پربات چیت کرناچاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکا نے آج ایران کے 3 نیو کلیئر سائٹس پر بنکر بسٹر بموں سمیت ٹاماہاک میزائلوں سے حملہ کیا اور ان حملوں کے بعد امریکا کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایران کا جوہری پروگرام تباہ کردیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے جوہری سائٹس کی مکمل تباہی کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے، اس حوالے سے ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملے سے قبل ہی جوہری تنصیات کو خالی کرالیا گیا تھا۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جوہری پروگرام جے ڈی وینس ایران کے انہوں نے نے کہا

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو