خواجہ آصف کا امریکا سے متعلق فارن پالیسی میں تضاد کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف—فائل فوٹو
وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان کی امریکا کے لیے فارن پالیسی میں تضاد کا اعتراف کر لیا۔
’جیو نیوز‘ کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کے دوران خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ ایک طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام کی سفارش اور دوسری طرف ایران پر امریکی حملے کی مذمت کرنا تضاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے لیے نوبیل انعام کی سفارش اس لیے کی گئی کیونکہ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے میں کردار ادا کیا، اس تناظر میں ان کی سفارش کا جواز بنتا ہے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ ایران ہمارا ہمسایہ ہے، اس میں کوئی شک نہیں، ہم ساتھ کھڑے ہیں، تہران کے ساتھ ہمارے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔
اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاک بھارت تنازع میں امریکی صدر نے جو کردار ادا کیا وہ اہمیت رکھتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔