علی امین کیلئے صوبائی حکومت سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, June 2025 GMT
فیصل کریم کنڈی—فائل فوٹو
گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے۔
فیصل کریم کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان کے صحافیوں کے نمائندہ وفد سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور کہا کہ علی امین گنڈاپور کسی بھی صورت اقتدار نہیں چھوڑ سکتے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت علی امین کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہے، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا صرف بڑھکیں مار رہے ہیں کہ وہ اسمبلی توڑ دیں گے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ کے پی کے حکومت اپنا بجٹ کسی بھی طریقے سے پاس کر لے گی کیونکہ بانیٔ پی ٹی آئی سے ان کی ملاقات ممکن نہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ صوبے میں کسی بھی وقت ایمرجنسی خارج از امکان نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصل کریم کنڈی علی امین
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔