برطانوی وزیراعظم اور سلطان عمان کے درمیان مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
وزیراعظم برطانیہ سر کیئر اسٹارمر نے سلطان عمان کے سلطان، معظم المقام ہیثم بن طارق السعید سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ایران کے جوہری پروگرام کو علاقائی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئے تاکہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
وزیراعظم اور سلطان عمان نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں مزید کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور موجودہ حالات میں تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
غزہ کی موجودہ صورتحال کو دونوں رہنماؤں نے ناقابل برداشت قرار دیا اور فوری جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔
دریں اثنا وزیراعظم برطانیہ کی شاہ عبداللّٰہ دوم سے بھی مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران، وزیراعظم نے ایران کے جوہری پروگرام کو عالمی سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے سویلین آبادی کو درپیش ناقابل برداشت حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور فوری جنگ بندی کی حمایت کی۔
وزیراعظم اسٹارمر نے شاہ عبداللّٰہ کو برطانیہ کی مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر علاقائی استحکام کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔