اقوام متحدہ :اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مندوب فو چھونگ نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے دائرہ کار میں آنے والی جوہری تنصیبات پر حملوں کی سخت مذمت کی۔پیر کے روزانہوں نے کہا کہ مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال شدید کشیدہ ہو چکی ہے، چین کو شدید تشویش لاحق ہے کہ حالات بے قابو ہو سکتے ہیں۔ تنازع کے فریقین، خاص طور پر اسرائیل کو فوری طور پر جنگ بندی کرنی چاہیے، تاکہ صورتحال کو مزید کشیدہ ہونے سے روکا جا سکے ۔ چین کو تنازع کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر شہریوں کی اموات پر گہرا دکھ ہے۔تنازع کے فریقین کو بے گناہ شہریوں کا تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے پر حملے سے گریز کرنا چاہیے۔ فو چھونگ نے کہا کہ طاقت کے استعمال سے مشرق وسطی میں امن نہیں لایا جا سکتا، مکالمہ اور مذاکرات ہی بنیادی حل ہیں۔ روس، چین اور پاکستان نے سلامتی کونسل میں ایک قرارداد پیش کی ہے، جس میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور مذاکرات کی پیشکش کی گئی ہے۔ چین پر امید ہے کہ سلامتی کونسل کے ارکان ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے، اس قرارداد کی حمایت کریں گے اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔اسی روز سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے قبل، فو چھونگ نے چائنا میڈیا گروپ کے نامہ نگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایک بار پھر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کی مذمت کی۔انہوں کہا کہ یہ جوہری تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی کے تحت ہیں۔ امریکہ کا یہ عمل اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔ فو چھونگ نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کو نقصان پہنچا ہے، لیکن امریکہ کی اپنی ساکھ بھی متاثر ہوئی ہے ، چاہے وہ ایک ملک کے طور پر ہو یا کسی بھی بین الاقوامی مذاکرات میں شریک کے طور پر۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔

انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت