ایران پر امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں 2سپر آئل ٹینکرز نے راستہ بدل لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, June 2025 GMT
ایران پر امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں 2سپر آئل ٹینکرز نے راستہ بدل لیا WhatsAppFacebookTwitter 0 23 June, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے اور ایرانی پارلیمنٹ کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی منظوری کے بعد خلیج میں داخلے کی واحد سمندری گزرگاہ کے مستقبل کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے، اتوار کو ایران پر امریکی حملے کے بعد آبنائے ہرمز میں موجود 2 سپر ٹینکرز کی جانب سے راستہ بدلنے کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی جریدے بلومبرگ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد خطے میں تنازع کے بڑھنے کے خطرے کے پیش نظر دو سپر ٹینکرز کوس وِزڈم لیک اور ساتھ لوئیلٹی نے آبنائے ہرمز میں اپنا راستہ بدل لیا ہے، دونوں ٹینکرز تقریبا 20 لاکھ بیرل خام تیل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔رپورٹ میں ٹریکنگ ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں خالی جہاز اتوار کے روز آبنائے میں داخل ہوئے تھے لیکن پھر اچانک اپنا راستہ بدل لیا۔بلومبرگ نے لکھا کہ ان آئل ٹینکرز کا مڑنا راستوں کی تبدیلی کی ابتدائی علامت ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جہازوں کے مالکان اور تاجر اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ آیا مشرق وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی تجارتی نقل و حرکت اور رسد کو متاثر کرے گی۔
ایران اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی دے چکا ہے، جو خلیج میں داخلے کا واحد سمندری راستہ ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق دنیا میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریبا 20 فیصد اسی آبنائے سے گزرتا ہے، جسے ایجنسی نے دنیا کی سب سے اہم تیل راہداری قرار دیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربانی پی ٹی آئی نے حکم دیا تو ایک منٹ میں اسمبلی ختم کردوں گا، علی امین گنڈا پور بانی پی ٹی آئی نے حکم دیا تو ایک منٹ میں اسمبلی ختم کردوں گا، علی امین گنڈا پور غزہ میں اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری، 24گھنٹوں میں مزید 51فلسطینی شہید کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل،نیب خیبرپختونخوا کا اعظم سواتی کی عدم پیشی پر دوسرا نوٹس جاری کرنے کا عندیہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان 8 وزارتوں میں کٹوتی پر اتفاق وزیراعظم کی سرکاری اور نجی شعبوں کے مابین لین دین کو کیش لیس بنانے کی ہدایت ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل: ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم،ملزم کے وکلا کا والدین سے ملاقات نہ کروانے کا شکوہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پر امریکی حملے راستہ بدل لیا ایران پر کے بعد
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔