اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔24 جون ۔2025 ) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے آئندہ مالی سال کیلئے بجلی کی قیمت خریداری سے متعلق سی پی پی اے کی درخواست پر فیصلہ جاری کردیا ہے نیپرا نے آئندہ مالی سال کے لیے نیشنل اوسط پاور پرچیز پرائس میں ایک روپے 2 پیسے فی یونٹ کی کمی تجویز کا فیصلہ وفاقی حکومت کو بجھوادیا.

نیپرا نے 2025۔

(جاری ہے)

26 کے لیے نیشنل اوسط پاورپرچیزپرائس25 روپے 98 پیسے فی یونٹ مقررکردی ہے جب کہ رواں مالی سال نیپرا نے نیشنل اوسط پاور پرچیز پرائس 27 روپے فی یونٹ مقرر کر رکھی ہے آئندہ مالی سال کے لیے بجلی خریداری کی مد میں 3 ہزار 342 ارب روپے سے زائد کی رقم مقرر کی گئی ہے، نیپرا نے رواں مالی سال کے لیے پاور پرچیز پرائس کا تخمینہ 3 ہزار534 ارب روپے رکھا تھا.

کے الیکڑک کے سوا آئندہ مالی سال کے لیے پاور پرچیز پرائس26 روپے 34 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے، رواں مالی سال کے الیکٹرک کے سوا پاور پرچیز پرائس27 روپے 35 پیسے فی یونٹ مقرر ہے، نیپرا نے فیصلہ یکساں ٹیرف کی درخواست کے لیے وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے. ادھر ماہرین نے بجلی کی قیمتوں سے متعلق حکومتی پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ایک ہاتھ سے چند پیسوں کا ریلیف دیتی ہے تو دوسرے ہاتھ سے کئی روپے کا مزیدبوجھ صارفین پر ڈال دیتی ہے انہوں نے کہا کہ اس کی مثال پاور سیکٹرکا گردشی قرضہ ہے جو صارفین کی وجہ سے نہیں بلکہ حکومتوں اور متعلقہ اداروں کی نااہلیوں اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے 500ارب روپے کے قریب پہنچا حکومت نے اس کا بوجھ ساڑھے تین روپے فی یونٹ کے حساب سے صارفین پر ڈال دیا.

انہو ں نے کہا کہ بجلی ‘گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ضروریات زندگی کی ہرچیزکی قیمتوں پر اثرڈالتا ہے ورکنگ کلاس ان پالیسیوں کی وجہ سے بری طرح متاثر ہے جبکہ غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ حکومتی پالیسیوں کی ناکامیوں کو ظاہر کرتا ہے ‘انہوں نے ورلڈ بنک کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پچھلے تین سال میں غربت کی شرح19فیصد سے بڑھ کر44فیصد تک پہنچ گئی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو انتہائی خطرناک ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے مالی سال کے لیے آئندہ مالی سال پیسے فی یونٹ فی یونٹ مقرر پاور پرچیز نیپرا نے

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان