غزہ میں امداد حاصل کرنے کے لیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری ، 24 افراد شہید درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
غزہ میں امداد حاصل کرنے کے لیے جمع فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 24 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
متحدہ عرب امارات کی نیوز ایجنسی وام کے مطابق وسطی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 24 فلسطینی شہری شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بمباری منگل کی صبح مختلف رہائشی علاقوں اور جنوبی وادی غزہ میں امدادی سامان کے منتظر شہریوں کے اجتماع پر کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ میں خوراک حاصل کرنے کے لیے جمع ہجوم پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ، 51 فلسطینی شہید
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ شہر کے جنوب میں واقع صبرہ محلے میں ایک مکان پر بمباری کی گئی جس کے ملبے سے 5 افراد کی لاشیں نکالی گئیں۔ ریسکیو اور سول ڈیفنس کے عملے نے زخمیوں کو فوری طور پر الشفا میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا۔
نصیرات میں قائم العودہ اسپتال کے طبی ذرائع نے تصدیق کی کہ اسپتال میں 19 لاشیں اور 146 زخمیوں کو لایا گیا، جن میں اکثریت ان افراد کی تھی جو صلاح الدین اسٹریٹ پر امداد کے حصول کے لیے جمع تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل نے ایران کو مرکزی جنگی محاذ قرار دے دیا، غزہ ثانوی ترجیح بن گیا
رپورٹ کے مطابق 62 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جنہیں وسطی غزہ کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ شدید انسانی بحران سے دوچار ہے۔ اس دوران دسیوں ہزار شہری شہید ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور فوری مداخلت نہ ہونے کے باعث غزہ میں انسانی المیہ مزید سنگین صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسرائیل خوراک غزہ فلسطینی شہری.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل خوراک فلسطینی شہری کے لیے جمع
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔