وفد میں علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ سید باقر عباس زیدی، مولانا محمد صادق جعفری، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ مبشر حسن، ڈاکٹر صابر ابو مریم، سید رضی حیدر رضوی، سید علی نیئر زیدی اور فرزان حیدر رضوی شامل تھے۔ قونصل جنرل ڈاکٹر واحد اصغری نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور حالیہ ریلی کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی جنرل سیکریٹری علامہ سید حسن ظفر نقوی کی قیادت میں ایک وفد نے کراچی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل ڈاکٹر واحد اصغری سے ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد ایران پر حالیہ اسرائیلی و امریکی جارحیت کے تناظر میں اظہارِ یکجہتی اور مزاحمتی قیادت کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔ وفد نے رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی قیادت، استقامت اور تدبر کو خراج تحسین پیش کیا اور ایران کی جانب سے اسرائیلی حملے کے جرات مندانہ جواب کو سراہا۔ وفد کی جانب سے شہدائے ملتِ ایران کے درجات کی بلندی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔ اس موقع پر علامہ حسن ظفر نقوی نے کہا کہ پاکستانی عوام اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ایران نے ظلم و جارحیت کے خلاف جس عزم و استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تقلید ہے۔

وفد میں علامہ سید باقر عباس زیدی، مولانا محمد صادق جعفری، علامہ حیات عباس نجفی، علامہ مبشر حسن، ڈاکٹر صابر ابو مریم، سید رضی حیدر رضوی، سید علی نیئر زیدی اور فرزان حیدر رضوی شامل تھے۔ قونصل جنرل ڈاکٹر واحد اصغری نے وفد کا شکریہ ادا کیا اور حالیہ ریلی کے کامیاب انعقاد پر کراچی کے شیعہ و سنی مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے جس دلی وابستگی کا مظاہرہ کیا، وہ ایران و پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات کی بہترین مثال ہے۔ ملاقات خوشگوار ماحول میں اختتام پذیر ہوئی اور دونوں فریقین نے دوطرفہ عوامی اور مذہبی روابط کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: قونصل جنرل ڈاکٹر واحد اصغری حیدر رضوی

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی