کراچی:

ڈیفنس خیابان تنظیم کے گھر میں ملازمت کے دوران 5 کروڑ روپے لوٹنے کے الزام میں گرفتار ماسی سے تفتیش میں ہوش ربا انکشافات سامنے آگئے ہیں اور ان کی مزید جائیدادوں کا انکشاف ہوا اور مبینہ طور پر شاہانہ طرز زندگی گزارنے والی ماسی کے گھریلو ملازم کو بھی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

ایس آئی یو کلفٹن سعید تھیم کے مطابق شہناز ماسی حیرت انگیز طور پر ایک شاہانہ طرز زندگی گزار رہی تھی اور تفتیش کے دوران مجموعی طور پر 5 گاڑیوں، 3 موٹر سائیکل، 3 فلیٹس اور پرچون کی دکان کی  تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں۔ 

پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمہ 16 سال کے دوران مختلف اوقات میں انوشہ نامی خاتون کے گھر سے 5 کروڑ سے زائد کی رقم گھر میں موجود مخصوص کمرے سے نکالتی رہی اور چوری کے پیسوں سے مختلف اوقات میں گاڑیاں، فلیٹس، دکان اور موٹر سائیکلیں خریدیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزمہ خریدی گئی گاڑیاں کرائے پر چلاتی رہیں، زیر استعمال فلیٹس کے علاوہ دیگر 2 فلیٹس بھی کرایہ داری پر دیے ہوئے تھے اور کرایے کی مد میں ملزمہ ماہانہ لاکھوں روپے کما رہی تھی۔

تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمہ ڈیفنس خیابان تنظیم میں واقع بنگلے میں روز ملازمت کرنے کے بعد شام کو اپنی 65 لاکھ روپے مالیت کی قیمتی گاڑی میں کلفٹن میں واقعے مہنگے شاپنگ مال میں شاپنگ کرتی اور مختلف پوش علاقوں میں قائم کیفوں پر شام گزارتی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق تفتیش میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمہ برانڈڈ کپڑوں کی شوقین ہے اور بنگلے میں بطور ماسی کام کاج کے بعد اپنے برانڈڈ کپڑوں کا شوق پورا کرتی رہی، جس کے لیے اکثر و بیشتر آن لائن شاپنگ کے ذریعے بین الاقوامی برانڈ کے کپڑے فروخت کیے جاتے رہے۔

گرفتار ملزمہ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ شاہانہ لائف اسٹائل کو اپناتے ہوئے گرفتار ماسی نے اپنی خدمت اور گھر کے کاموں کے لیے حماد نامی نوجوان کو ملازم کے طور پر رکھا ہوا تھا جو اکثر و بیشتر ملزمہ کے ڈرائیور کے طور پر بھی خدمات انجام دیتا رہا۔

ایکسپریس نیوز کو ایس آئی یو سعید نے بتایا کہ حاصل کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ماسی کے پاس موجود گاڑیوں کی مالیت تقریباً دو کروڑ روپے کے قریب ہے، انی کے خریدے گئے کروڑوں روپے مالیت کے فلیٹس اپر گزری میں موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمہ نے اپنے بیٹے اور ساتھی ملزم آصف کو گزری میں ہی ایک پرچون کی دکان کھول کر دی ہوئی تھی جبکہ پولیس نے تفتیش کے دوران لوٹے ہوئے 6 لاکھ روپے بھی ملزمہ کے گھر سے برآمد کرلیے ہیں اور ان کے بینک اکاؤنٹس میں بھی تقریباً 40 لاکھ روپے موجود ہیں۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ملزمہ کے ساتھیوں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے اور ملزمہ کے آبائی علاقے میں موجود جائیداد کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے بتایا کہ ملزمہ کے کے دوران کہ ملزمہ کے گھر

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • کراچی: بھینس کالونی میں شادی کی تقریب میں ہوائی فائرنگ، دلہا گرفتار
  • اداکارہ میرب علی کو اچانک سرجری کیوں کروانا پڑی؟ اصل وجہ سامنے آگئی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار