سُپر طاقت ہے خدا۔۔۔۔ لا الہ الا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ایرانی ماوں نے ایسے جرنیل جنم ہی نہیں دیئے کہ جو کسی ظالم کی خوشامد کرکے کوئی مقام و منصب پانا چاہیں۔ نہ ہی تو ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو شہید کیا جا سکا، نہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوا، نہ حکومت کا تختہ اُلٹا جا سکا، نہ کوئی عوامی بغاوت ہوئی، نہ ایران کی اعلیٰ انقلابی قیادت سرنگوں ہوئی، نہ ایران نے کسی حملے کا جواب قضا کیا، نہ ایران نے سیز فائر کی بھیک مانگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران نے میدان جنگ میں بھی اعلیٰ اخلاقی، سفارتی اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کرکے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریت کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا۔ بات صرف یہ نہیں کہ ایران نے ایک نام نہاد سُپر طاقت اور اس کے حلیفوں کو شکستِ فاش دی ہے بلکہ بات تو یہ ہے کہ ایران نے عملاً ایک مرتبہ پھر ساری دنیا سے یہ تسلیم کروا لیا ہے کہ "سُپر طاقت ہے خدا۔۔۔۔ لا الہ الّا اللہ۔" تحریر: ڈاکٹر نذر حافی
ایک پروفیسر صاحب کو پہلی مرتبہ کسی گاوں میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں انہوں نے ایک باغ کو دیکھا اور اُس کے مالک سے ملے۔ انہوں نے باغ کے مالک سے پوچھا کہ کہیں گاوں کے لوگ آپ کے پھل وغیرہ تو چوری کرکے نہیں لے جاتے۔؟ مالک نے کہا کہ نہیں ہرگز نہیں، یہاں کے لوگ تو بہت ایماندار اور نیک ہیں۔ اس پر محترم پروفیسر صاحب نے تعجب سے مالک کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ پھر تم نے اپنے کاندھوں پر بندوق کیوں اٹھائی ہوئی ہے۔؟ باغ کے مالک نے برجستہ جواب دیا کہ یہ بندوق گاوں والوں کو ایماندار اور نیک رکھنے کیلئے ہی ہے۔ ایران کے میزائل اور ڈرونز بھی امریکہ و اسرائیل جیسوں کو صلح پسند اور امن پسند رکھنے کیلئے ہی ہیں۔ یقین مانیں کہ اگر اسرائیل کی مانند امریکہ کو بھی ایران کا فوری اور مساوی جواب نہ ملتا تو یہ جنگ بندی ممکن ہی نہ تھی۔
بارہ دن تک ایران پر براہِ راست بم برسائے گئے، لیکن رجیم چینج نہیں ہوئی جبکہ ہمارے ہاں ایک سائفر کا تعویز اپنا کام دکھا گیا تھا۔ ایران پر امریکہ کا حملہ، یہ درحقیقت ایک ٹیسٹ کیس تھا۔ اس کے ردِّعمل کو دیکھ کر ہی ٹر ٹر نے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنا تھا۔ اسلامی فورس کی طرف سے امریکہ کو طاقت کی زبان میں جواب دینے اور اس کے فوراً بعد ٹر ٹر کے صلح کے دعووں نے ساری دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ امن کے ساتھ جینے کیلئے طاقتور ہونا ضروری ہے۔ کہیں پر بھی امن نرم دل، روتی ہوئی آنکھوں اور آہ و بکا کے بجائے طاقتور بازووں کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اگر آپ کے بازووں میں طاقت نہیں تو آپ کو آزادی، مساوات اور انصاف کی قربانی دے کر امن حاصل کرنا پڑے گا۔ چنانچہ ملت ایران نے آزادی، مساوات اور انصاف کو قربان کرنے کے بجائے اپنے طاقتور بازووں سے کام لیا اور خوب ڈٹ کر یہ کام لیا۔
ٹرٹر، جو ابھی چند دن پہلے ایران پر حملے کا حکم دے چکا تھا، اب خود کو ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اسے امریکی و مغربی سماج کے اخلاقی دیوالیہ پن اور اخلاقی تضاد کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جب کسی ریاست کا سربراہ کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ اور ہے تو ایسے میں صلح و امن کا نام لے کر فراڈ کرنا ہی طاقتور کے بیانیے کی بنیاد ہوتا ہے۔ ٹرٹر کی "جنگ بندی" کا اعلان دراصل ایک جنگی چال ہے، جس کا مقصد ایران کو حملہ آور دکھانا اور خود کو صلح جو، منصف اور غیر جانبدار ثابت کرنا ہے۔ ایرانی قوم کو آٹھ سالہ جنگ کا تجربہ ہے اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ جارحیّت سے زیادہ خطرناک وہ صلح ہے، جو جارح کی مرضی کے مطابق ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کا ہر باشعور شخص ٹرٹر سے یہ پوچھنا چاہتا ہے کہ جب تم خود حملہ آور ہو تو پھر تم ثالث اور منصف کہاں سے بن بیٹھے۔؟
ایران نے جس انداز میں عراق و قطر میں امریکی اڈوں پر جوابی کارروائی کی، وہ محض عسکری جواب نہیں تھا بلکہ دنیا کے سوچنے کے انداز کو اُلٹ کر رکھ دینے کی ایک فکری کاوش تھی۔ بڑے بڑے دانشور بوکھلا کر کہہ رہے تھے کہ اب تو ایران کیلئے کئی محاذ کھل جائیں گے، اب تو ایران کو بڑی سخت سزا ملے گی، وغیرہ وغیرہ، لیکن ایرانیوں نے امریکہ کو جواب دے کر یہ منوا لیا کہ تاریخ وہ بازار ہے کہ جہاں قومیں اپنی عزّت و آزادی کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرتی ہیں۔ ایران نے دشمن کے مقابلے میں اپنی قومی عزت و وقار کا تحفظ عمل سے کیا، نہ کہ الفاظ سے۔ ٹرٹر صلح اور امن کے بھاشن دے کر چاہتا یہ ہے کہ کسی طرح اپنی شرمندگی کو چھپائے۔ گویا بدترین شکست کے بعد فتح کا جھنڈا بھی وہی لہرائے۔
ایسے بے حیا کرداروں کے نزدیک انسانیت، انسانوں کی آزادی و خود مختاری اور انسانی اقدار نام کی کوئی شئے نہیں۔ انہیں صرف اس سے غرض ہے کہ اب اگر ایران جنگ بندی کی اس "پیشکش" کو مسترد کر دے تو اسے مزید جارحیت کا جواز بنایا جائے۔ امریکہ کے پاس ایران کیلئے تو بہت سارے ایٹم بم ہیں، لیکن فلسطین و غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو روکنے کیلئے کوئی علاج نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر دوا کے بغیر طبیب علاج کی بات کرے، تو وہ علاج نہیں کر رہا ہوتا بلکہ مرض کو لاعلاج بنا رہا ہوتا ہے۔ ٹرٹر دراصل اسرائیل کے پھوڑے کو ایک لا علاج ناسور میں تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ یہ بھی امریکہ، اسرائیل اور فرانس وغیرہ کی بڑی ناکامی ہے کہ وہ تجزیہ نگاروں، میڈیا ہاوسز، سوشل نیٹ ورکس، مختلف تھنک ٹینکس پر اربوں روپیہ خرچ کرکے بھی ایرانی قوم کی داخلی وحدت کو نقصان نہیں پہچا سکے۔
اس جنگ نے داخلی اور خارجی دونوں لحاظ سے ایران کو جتنا مضبوط کیا ہے، ایران اس سے پہلے کبھی اتنا مضبوط نہیں تھا۔ ایرن نے اپنی صفوں میں چھپے ہوئے منافقین اور غدّاروں کے کئی نیٹ ورکس پکڑے ہیں، جو کہ ایران کیلئے خدا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ ایران نے صرف میزائلوں اور ڈرونز کی جنگ میں ٹرٹر اور کفرائیل کو مات نہیں دی، بلکہ بیانیے، شعور اور اندرونی و بیرونی رائے عامہ کے میدان میں بھی اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کر دئیے ہیں۔ ایرانی جرنیلوں نے اپنی تدابیر اور فہم و فراست سے ساری دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ وہ تاریخ میں اپنا کردار خود تراشتے اور طے کرتے ہیں، نہ کہ بڑی طاقتوں کے لکھے ہوئے کسی اسکرپٹ میں وہ کسی فنکار کے طور پر اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔
ٹرٹر کی صلح کے اعلان میں امن کی روح نہیں، بلکہ طاقت کے جبر کی چالاکی ہے۔ یہ ایسا امن ہے کہ جس کے نیچے طاقت کی تلوار چھپی ہوئی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسے جبر و مکر کے مقابلے میں ایران کی مقاومت و مزاحمت ہے، جو آزادی اور برابری کے اصولوں پر کھڑی ہے۔ ایرانی ماوں نے ایسے جرنیل جنم ہی نہیں دیئے کہ جو کسی ظالم کی خوشامد کرکے کوئی مقام و منصب پانا چاہیں۔ نہ ہی تو ایران کے رہبرِ اعلیٰ کو شہید کیا جا سکا، نہ ایران اپنے جوہری پروگرام سے دستبردار ہوا، نہ حکومت کا تختہ اُلٹا جا سکا، نہ کوئی عوامی بغاوت ہوئی، نہ ایران کی اعلیٰ انقلابی قیادت سرنگوں ہوئی، نہ ایران نے کسی حملے کا جواب قضا کیا، نہ ایران نے سیز فائر کی بھیک مانگی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایران نے میدان جنگ میں بھی اعلیٰ اخلاقی، سفارتی اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کرکے اسلامی انقلاب اور اسلامی جمہوریت کی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا۔ بات صرف یہ نہیں کہ ایران نے ایک نام نہاد سُپر طاقت اور اس کے حلیفوں کو شکستِ فاش دی ہے بلکہ بات تو یہ ہے کہ ایران نے عملاً ایک مرتبہ پھر ساری دنیا سے یہ تسلیم کروا لیا ہے کہ "سُپر طاقت ہے خدا۔۔۔۔ لا الہ الّا اللہ۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نہ ایران نے کہ ایران نے اور اسلامی ساری دنیا ایران کی تو ایران یہ ہے کہ اور اس جا سکا ہیں کہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔