Jasarat News:
2026-07-24@04:21:46 GMT

عذر گناہ بدتر از گناہ

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

عروص البلاد کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ تین کروڑ کی آبادی پر مشتمل شہر عملاً مسائل کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ ایک عالمی سروے میں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کو دنیا کا چوتھا بدترین رہائشی شہر قراردیا گیا ہے۔ دی اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) کی جانب سے گزشتہ روز جاری کردہ لیویبلیٹی انڈیکس 2025 کے مطابق، کراچی کو 173 شہروں میں سے 170 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے، گزشتہ سال کے سروے کے مطابق کراچی 173 شہروں میں 169 نمبر پر تھا۔ جو اس بات کی دلیل ہے کہ کراچی میں واقعتا رہنا مشکل ہوگیا ہے۔ ای آئی یو کی رپورٹ شہروں کی پانچ اہم امور صحت، ثقافت و ماحول، تعلیم، بنیادی ڈھانچہ اور استحکام پر جائزہ لیتی ہے، اور لطف کی بات یہ ہے کہ روشنیوں کا یہ شہر ہر ایک میں پیچھے ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے، ادویات کا فقدان ہے، آلودگی، ہجوم، شور، معیاری تعلیمی اداروں کی کمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، پانی و ٹرانسپورٹ کی عدم فراہمی بجلی کی طویل دورانیہ لوڈ شیڈنگ اور امن وامان کی ابتر صورتحال نے شہر کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ائر کوالٹی انڈیکس کے مطابق 3 جنوری 2025 کو کراچی دنیا کا سب سے آلودہ شہر تھا، جبکہ 5 دسمبر 2024 کو تیسری پوزیشن پر تھا اور اس کا انڈیکس 229 ریکارڈ ہوا، جو صحت کے لیے خطرناک ہے۔ فوربز ایڈوائزر نے جولائی 2024 میں کراچی کو سیاحوں کے لیے دنیا کا دوسرا خطرناک شہر قرار دیا۔ اس صورتحال کو تسلیم کرنے کے بجائے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ: ’’کراچی اگر اتنا برا ہوتا تو یہاں 3 کروڑ لوگ نہ رہتے، 3 کروڑ والے شہر کا موازنہ 100 لوگوں کے سروے سے نہیں کیا جا سکتا۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ بہتر زندگی کے لیے آج بھی لوگ کراچی کا رُخ کر رہے ہیں۔ اِدھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن بھی اس سروے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کراچی اگر رہائش کے قابل نہیں ہے تو پورے ملک سے ہزاروں لوگ کراچی کیوں آرہے ہیں؟۔ مرتضیٰ وہاب خیر سے بیرسٹر بھی ہیں انہیں کسی بھی سروے کا میکنزم بھی معلوم ہوگا، اس کے باوجود وہ جس سادگی کا اظہار کررہے ہیں وہ ناقابلِ فہم ہے، یہی وہ طرز عمل ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے عذر گناہ بدتر از گناہ۔ حقیقت یہ ہے کہ میئر کراچی عوام کے مسائل و مشکلات حل کرانے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ کراچی کی تعمیر و ترقی اور اس کے مسائل کو حل کرنا ان کی ترجیح ہی میں شامل نہیں، پورے شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہو چکا ہے، سڑکیں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں، جگہ جگہ گٹر اُبل رہے ہیں، تعمیرات کے نام پر پورے شہر کو کھود کر رکھ دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے حادثات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ مون سون کی بارشوں کی پیش گوئی کے باوجود شہر کے ندی نالوں کی صفائی عملاً کہیں نظر نہیں آرہی۔ اگر کارکردگی یہی رہی تو اگلے سال کراچی دنیا کے بدترین رہائشی شہر کے انڈکس میں کس نمبر پر آئے گا اس کا اندازہ لگانا چنداں دشور نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف