Jasarat News:
2026-06-03@00:14:15 GMT

ایران، اسرائیل تنازع: سچائی کے خلاف جھوٹ کی یلغار

اشاعت کی تاریخ: 25th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مسعود محبوب خان
’’اور کہہ دو: حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل تو مٹنے والا ہی تھا‘‘۔ (سورہ الاسراء: 81) حق و باطل کا معرکہ ازل سے جاری ہے۔ کبھی فرعون کے ایوانوں میں موسیٰؑ کی لاٹھی بولتی ہے، کبھی نمرود کی آگ میں ابراہیمؑ کا صبر روشن ہوتا ہے، اور کبھی یزید کے دربار میں حسینؓ کی خاموشی گونج بن جاتی ہے۔ ہر دور میں باطل، اپنی چمک دمک، حربی قوت، اور پروپیگنڈے سے حق کو دبانے کی کوشش کرتا رہا ہے، مگر حق، اگرچہ کمزور اور تنہا نظر آئے، بالآخر سرفراز ہی ہوتا ہے۔ آج کے دور میں ایران کی مزاحمت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جو ظاہری طاقتوں سے بے نیاز ہو کر باطل کے ایوانوں میں سچائی کی صدا بلند کر رہا ہے۔ اسرائیل کی غاصب ریاست جو مظلومیت کا نقاب اوڑھ کر ظلم کی سنگین مثالیں قائم کر چکی ہے، درحقیقت اْس نظامِ طاغوت کی نمائندہ ہے جس سے انبیاء کرام ہمیشہ برسرِ پیکار رہے۔ اسلام ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ظلم کے خلاف کلمۂ حق بلند کرنا افضل ترین جہاد ہے۔ جیسا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’افضل ترین جہاد ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا ہے‘‘۔ (سنن نسائی) اسی روحانی اور فکری تناظر میں ایران، اسرائیل تنازع کو سمجھنا، فقط سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں، بلکہ اسلامی ضمیر کی بیداری، حق و باطل کے امتیاز، اور مظلوم کی حمایت کا فریضہ ہے۔

دنیا کی سیاسی بساط ایک ایسی شطرنج ہے جہاں شطرنج کی چالیں نہ صرف مہروں کی قربانی مانگتی ہیں بلکہ اکثر انصاف اور سچائی جیسے اعلیٰ اقدار کو بھی روندتی چلی جاتی ہیں۔ یہ شطرنج صرف سفید و سیاہ خانوں پر کھیلا جانے والا کھیل نہیں، بلکہ یہ عالمی طاقتوں کا وہ مکروہ منصوبہ ہے جس میں کچھ خطے ہمیشہ کے لیے جنگ کی آگ میں جھونک دیے جاتے ہیں، اور کچھ اقوام کو مقدّر ہی میں قربانی کا بکرا بننا پڑتا ہے۔ ان مہروں کے سر پر نہ تاج ہوتا ہے، نہ ان کے ہاتھ میں کوئی اختیار بس ہر نئی چال کے بعد ان کا خون اس کھیل کو زندہ رکھنے کا ایندھن بنتا ہے۔ ایران اور اسرائیل کا تنازع اسی خونیں بساط کا وہ رْوح فرسا باب ہے جہاں سچائی کا گلا گھونٹنے کے لیے جھوٹ کے لشکر صف بند ہو چکے ہیں۔ یہاں حقائق کو مسخ کر کے پروپیگنڈے کے قالب میں ڈھالا جاتا ہے، اور میڈیا کی روشنی اتنی شدید ہے کہ آنکھوں کو دھوکا دے، دلوں کو سچ سے بیگانہ کر دے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کا چمکتا چہرہ درحقیقت سچائی پر چڑھایا گیا نقاب ہے، جس کے پیچھے ظلم، ناانصافی، اور دوغلا پن پوری ڈھٹائی کے ساتھ مسکرا رہا ہوتا ہے۔ یہ ایسا منظر ہے جہاں الفاظ کو ہتھیار بنایا گیا ہے، خبریں گولیوں کا کام دیتی ہیں، اور بیانیے توپوں کی مانند استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہاں تصویر وہی دکھائی جاتی ہے جو طاقتور کو راس آئے، اور آواز صرف وہی سنی جاتی ہے جسے طاقت کے ایوانوں سے منظوری حاصل ہو۔ ایران، جو اپنے نظریے، تہذیب اور مظلوموں کی حمایت کے سبب اس شطرنج کے خلاف کھڑا ہے، اسے ہر ممکن طریقے سے دبوچنے، بدنام کرنے اور تنہا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا شطرنج کی ہر چال کامیاب ہوتی ہے؟ کیا ہر قربانی رائیگاں جاتی ہے؟ کیا سچائی واقعی دفن ہو سکتی ہے، یا وہ مٹی کے اندر بھی چراغ کی مانند جلتی رہتی ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو آج کی دنیا کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ جھوٹ کی اس یلغار میں کہیں سچائی کی روشنی بجھ نہ جائے۔

اگر تاریخ ایک آئینہ ہے تو ایران اس آئینے کی وہ قدیم تصویر ہے جو وقت کی گرد کو چیر کر بھی روشن ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں تہذیب نے آنکھ کھولی، جہاں الفاظ نے معانی کا لباس پہنا، اور جہاں روحانیت، علم، فن اور حریت کا امتزاج نسل در نسل سفر کرتا آیا ہے۔ ایران کوئی مجرد خطہ ٔ زمین نہیں، بلکہ وہ شعور ہے جس نے فردوسی کے قلم سے ’’شاہنامہ‘‘ جیسی ایسی فکری مشعل روشن کی جس نے صدیوں تک ظلم و جبر کی تاریکی میں سوچنے والوں کے لیے راہنمائی کا کام کیا۔ پھر جب وقت کی کروٹ نے ظلم کی نئی شکلوں کو جنم دیا، تو اسی ایران کی زمین نے امام خمینی جیسی شخصیت کو جنم دیا، جو فقط ایک فرد نہیں، بلکہ ایک نظریہ، ایک صدائے احتجاج، اور ایک انقلاب تھا۔ ایران کا انقلاب، ایک قوم کی بیداری کا نہیں بلکہ پوری مظلوم انسانیت کے دل کی دھڑکن بن گیا۔ اس کے مقابل، اسرائیل ایک ایسی ریاست کے طور پر ابھرا جو نہ تاریخ کی گہرائی رکھتا ہے، نہ اخلاقی بنیاد۔ 1948ء میں ایک سیاسی منصوبہ بندی کے تحت اسے جبری طور پر نقشے پر کھینچا گیا اور اس کے قیام کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کی فضاؤں میں گولیوں کی گونج، بارود کی بو اور مہاجر کیمپوں کی آہیں ہمیشہ کے لیے شامل ہو گئیں۔ فلسطین کی زمین جو کبھی امن کا گہوارہ تھی، دیکھتے ہی دیکھتے دیواروں، چیک پوسٹوں اور ملبے کے ڈھیر میں بدل گئی۔ اسرائیل کی بنیاد فقط زمین پر نہیں، بلکہ مظلوموں کی چیخوں، بے گھری کے کرب، اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے پر رکھی گئی۔ ایران اور اسرائیل کا اختلاف فقط جغرافیہ یا سیاسی مفادات کا نہیں یہ درحقیقت دو فکری اور روحانی فلسفوں کا ٹکراؤ ہے۔ ایک طرف وہ ریاست جو طاقت اور ظلم کی زبان بولتی ہے، جو عالمی لابیوں کے سہارے زندہ ہے اور دوسری طرف وہ قوم جو صدائے حق بلند کرتی ہے، جو مظلوموں کی صف میں کھڑی ہوتی ہے، چاہے اس کے بدلے میں اسے پابندیاں، تنہائیاں یا جنگی خطرات ہی کیوں نہ جھیلنے پڑیں۔

ایران کا اسرائیل سے اختلاف اس اصول پر ہے کہ دنیا فقط طاقت کے زور پر نہیں چل سکتی اسے عدل، حق اور انسانیت کی بنیادوں پر استوار ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران نے ہمیشہ فلسطین کو صرف ایک قوم یا زمین کے طور پر نہیں، بلکہ ایک امانت، ایک امتحان اور ایک عقیدے کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ ایران کی حمایت فقط فلسطین کی سر زمین کے لیے نہیں بلکہ اس سچ کے لیے ہے جو عالمی جھوٹ کے سمندر میں ڈوبتا جا رہا ہے۔ اور اسرائیل، اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے ہمیشہ ان طاقتوں کے سائے میں کھڑا رہا ہے جن کے ضمیر کو مفادات کی دھند نے اندھا کر دیا ہے۔

زمانۂ حاضر کی جنگیں اب صرف ٹینکوں، توپوں اور بارود سے نہیں لڑی جاتیں بلکہ اب خیالات کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بیانیوں کو محاذ بنایا جاتا ہے اور میڈیا کو وہ شمشیر عطا کی گئی ہے جو زبانوں کو کاٹتی ہے، ذہنوں کو زخمی کرتی ہے اور سچائی کا گلا دبانے میں مہارت رکھتی ہے۔ اس جدید دور کی جنگ میں گولی نہیں چلتی، بلکہ سرخی چلتی ہے؛ خون نہیں بہتا، بلکہ کردار رگیدے جاتے ہیں اور دھواں بارود کا نہیں، بلکہ فریب، افواہ، اور نفسیاتی تسلّط کا ہوتا ہے۔ اسی میدان میں اسرائیلی لابی نے ایک ایسا نظریاتی قلعہ تعمیر کیا ہے جس کی دیواریں میڈیا کی طاقت سے بنی ہیں اور جس کے پہرے دار وہ مفاد پرست ادارے ہیں جو صحافت کی قسم کھا کر جھوٹ کا پرچار کرتے ہیں۔ انہوں نے مغربی میڈیا کو اس قدر پروپیگنڈے کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے کہ دنیا کے سامنے ایک مکمل جھوٹی تصویر کو ’’سچ‘‘ کے فریم میں سجا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مظلوم کو ظالم بنا دینا اور ظالم کو امن کا علمبردار قرار دینا یہی آج کے میڈیا کی سب سے بڑی چالاکی اور ستم ظریفی ہے۔ ایران کا ایٹمی پروگرام، جس کی حقیقی نوعیت دفاعی، تحقیقی اور سائنسی ہے، اْسے خوف کی علامت بنا کر دکھایا جاتا ہے، جب کہ اسرائیل، جو دنیا میں خفیہ طور پر سیکڑوں ایٹمی ہتھیاروں کا مالک ہے، اْس کے بارے میں میڈیا کی زبان کو گویا لقوہ مار جاتا ہے۔ نہ کوئی سوال، نہ کوئی شور، نہ کوئی انکوائری جیسے اس پر تنقید کرنا مغربی اخلاقیات کے خلاف جرم ہو۔

یہ وہ توہین ِ سچائی ہے جو انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا بدنما داغ ہے جو کبھی دھل نہیں سکتا۔ جب حق بات کرنے والوں کی آوازیں دبا دی جائیں، جب باطل کو خوبصورت نقاب پہنایا جائے، جب خبریں ’’خبر‘‘ نہ رہیں بلکہ ایجنڈہ بن جائیں تو پھر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سچائی کی موت کا اعلان ہو چکا ہے، اور میڈیا کی تلوار اب دشمن کے ہاتھ میں ہے۔ اور جب تلوار دشمن کے ہاتھ میں ہو، تو وہ صرف جسموں کو نہیں کاٹتی وہ سچائی کی رگوں سے لہو نچوڑتی ہے، شعور کو مسخ کرتی ہے، اور دلوں میں شک کے کانٹے بو دیتی ہے۔ ایسے میں ایران کا مؤقف، جو صداقت کی بنیاد پر قائم ہے، اکثر مغربی میڈیا کی ’’فلٹرنگ‘‘ سے گزر کر اپنی روشنی کھو دیتا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے آج کی دنیا کو ظاہری روشنیوں میں جکڑ کر باطنی اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایران کا ہیں بلکہ سچائی کی میڈیا کی جاتا ہے کے خلاف جاتی ہے ہوتا ہے ہے جہاں اور اس رہا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار